34

پشاور میں 14 اگست کے موقع پر دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور ون ویلنگ پر پابندی

پشاور (8 اگست 2026): یومِ آزادی کے موقع پر شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلع پشاور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ پابندی 15 اگست تک نافذ رہے گی، جس کے دوران مختلف خطرناک اور غیر محفوظ سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

14 اگست کی تقریبات کے دوران خصوصی حفاظتی اقدامات

پاکستان بھر کی طرح پشاور میں بھی ہر سال 14 اگست کو یومِ آزادی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ شہری اپنے گھروں، بازاروں اور مختلف مقامات پر قومی پرچم لہراتے اور جشن آزادی کی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ تاہم جشن کے دوران بعض خطرناک سرگرمیوں کے باعث شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

اسی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اس سال بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پابندی کا بنیادی مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی

دفعہ 144 کے تحت پشاور میں یومِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ جشن آزادی کے دوران کسی بھی صورت ہوائی فائرنگ نہ کی جائے۔

ہوائی فائرنگ کو ایک خطرناک عمل قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فضا میں چلائی جانے والی گولی کسی بھی بے گناہ شہری کی جان لے سکتی ہے۔ ماضی میں بھی مختلف مواقع پر ہوائی فائرنگ کے باعث شہریوں کے زخمی ہونے اور جانی نقصان کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

ون ویلنگ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی

یومِ آزادی کے موقع پر نوجوانوں کی جانب سے موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کے واقعات بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس عمل کے باعث نہ صرف خود نوجوانوں کی زندگی خطرے میں پڑتی ہے بلکہ سڑکوں پر موجود دیگر شہری بھی حادثات کا شکار ہوسکتے ہیں۔

پشاور انتظامیہ نے ون ویلنگ پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جشن آزادی کے دوران سڑکوں پر خطرناک کرتب دکھانے سے گریز کریں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔

انتظامیہ کے مطابق ون ویلنگ یا کسی بھی خطرناک ڈرائیونگ کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آتش بازی اور پٹاخوں کی خرید و فروخت ممنوع

دفعہ 144 کے تحت آتش بازی اور پٹاخوں کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں اور دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یومِ آزادی کے موقع پر پٹاخوں اور دیگر آتش گیر اشیا کی خرید و فروخت سے مکمل طور پر گریز کریں۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آتش بازی کے دوران آگ لگنے، زخمی ہونے اور دیگر حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے جشن آزادی کے موقع پر عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سرگرمی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

بچوں کی کھلونا بندوقوں اور ہارنز پر بھی پابندی

ضلعی انتظامیہ کے اعلامیے میں بچوں کی کھلونا بندوقوں، کھلونا ہارنز اور دیگر متعلقہ اشیا کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعض اوقات کھلونا بندوقوں اور دیگر شور پیدا کرنے والی اشیا کے استعمال سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ جشن کے دوران غیر ضروری شور بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پابندی کے دوران ایسی اشیا فروخت نہ کریں، بصورت دیگر خلاف ورزی کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

شہریوں سے قانون کی پابندی کی اپیل

ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یومِ آزادی کو قومی جذبے، خوشی اور ذمہ داری کے ساتھ منائیں۔ انتظامیہ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ، آتش بازی اور دیگر خطرناک سرگرمیوں سے مکمل طور پر اجتناب کریں۔

انتظامیہ کے مطابق آزادی کا جشن مناتے ہوئے دوسروں کی زندگیوں اور املاک کا خیال رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ شہری قومی پرچم لہرا کر، ملی نغمے سن کر اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے یومِ آزادی کی خوشیاں منا سکتے ہیں۔

خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ 14 اگست کی تقریبات کے دوران پولیس اور متعلقہ ادارے پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔

حکام کے مطابق جو افراد ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ، آتش بازی یا دیگر ممنوعہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

جشن آزادی کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری سب کی ہے

یومِ آزادی پاکستان کے عوام کے لیے خوشی، فخر اور قومی یکجہتی کا دن ہے۔ اس موقع پر شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خوشیوں کے ساتھ دوسروں کے تحفظ کا بھی خیال رکھیں۔ خطرناک سرگرمیوں سے گریز کرکے نہ صرف حادثات کی روک تھام ممکن ہے بلکہ جشن آزادی کو ایک محفوظ اور پُرامن انداز میں بھی منایا جاسکتا ہے۔

پشاور میں دفعہ 144 کا نفاذ اسی مقصد کے تحت کیا گیا ہے تاکہ 14 اگست کی تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رہے اور شہری بلا خوف و خطر آزادی کی خوشیاں منا سکیں۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری حکومتی احکامات کی پابندی کریں اور کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جس سے خود ان کی یا دوسرے شہریوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں