گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگری اسکینڈل سامنے آگیا
پشاور: خیبر پختونخوا کی معروف تعلیمی درسگاہ گومل یونیورسٹی ایک بڑے جعلی ڈگری اور مالی بے ضابطگیوں کے اسکینڈل کی زد میں آ گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں 514 مشکوک ڈگریوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد صوبائی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مشکوک قرار دی جانے والی ڈگریوں کی منسوخی کی سفارش کر دی گئی ہے جبکہ اس معاملے میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس انکشاف نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق طلبہ کے مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے نظام کے اعتماد سے ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
دستاویزات کے مطابق یونیورسٹی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران سینکڑوں ڈگریاں مشکوک پائی گئیں۔ تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ بعض ڈگریوں کے اجرا میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی جبکہ کچھ معاملات میں ریکارڈ بھی نامکمل پایا گیا۔
ابتدائی رپورٹ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر متعلقہ ریکارڈ کو محفوظ بنانے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ اسکینڈل کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ صوبے کی اعلیٰ تعلیم کی تاریخ کے بڑے اسکینڈلز میں شمار ہو سکتا ہے۔
سابق ڈائریکٹر افیلی ایشن معطل
گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں سابق ڈائریکٹر افیلی ایشن کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معطلی کا فیصلہ تحقیقات میں سامنے آنے والے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے میں دیگر افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید کارروائی متوقع ہے۔
یونیورسٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد کو صرف عہدے یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی اور تمام معاملات کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔
سابق کنٹرولر امتحانات کے خلاف کارروائی
جعلی ڈگری کیس میں سابق کنٹرولر امتحانات کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم مختلف ریکارڈز اور سرکاری دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈگریوں کے اجرا کے عمل میں کن افراد نے کردار ادا کیا اور قواعد کی خلاف ورزی کہاں ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات کے بعد تمام ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
2019 سے 2023 تک مبینہ بے ضابطگیاں
ذرائع کے مطابق یہ مبینہ جعلی ڈگریوں اور مالی خرد برد کا سلسلہ 2019 سے 2023 کے درمیان جاری رہا۔ اسی عرصے کے دوران مختلف انتظامی فیصلوں اور مالی معاملات میں بھی بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ منظر عام پر آنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ صرف جعلی ڈگریوں ہی نہیں بلکہ مالی معاملات کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم
اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کے لیے حکومت نے ایک نئی اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ تمام ریکارڈ، مالی معاملات اور انتظامی فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کے مطابق کمیٹی اپنی رپورٹ مقررہ مدت میں حکومت کو پیش کرے گی جس کی بنیاد پر مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد صرف ذمہ داران کا تعین کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کرنا بھی ہے۔
وزیر تعلیم کا سخت مؤقف
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم مینا آفریدی نے اسکینڈل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گومل یونیورسٹی میں مالی خرد برد اور جعلی ڈگریوں کے الزامات پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتساب کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے اور کسی بھی بااثر شخصیت یا سرکاری افسر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
وزیر تعلیم کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے نظام کو شفاف، جدید اور کرپشن سے پاک بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات کا امکان
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق مشکوک ڈگریوں کی منسوخی کے ساتھ ساتھ ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں جعل سازی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مالی خرد برد ثابت ہو جاتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں آ سکتی ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی فرد کو ایسے غیر قانونی اقدامات کی جرات نہ ہو۔
نتیجہ
گومل یونیورسٹی میں 514 مشکوک ڈگریوں کا انکشاف اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے صوبے کے تعلیمی نظام میں احتساب کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ حکومت، یونیورسٹی انتظامیہ اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جاری تحقیقات سے توقع کی جا رہی ہے کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ کیس نہ صرف گومل یونیورسٹی بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔