ٹرمپ کا بڑا بیان: ایران سے ڈیل کے بعد سپریم لیڈر سے ملاقات ممکن

9

تعارف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، روس یوکرین جنگ اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر اہم بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ملاقات کے خواہش مند نہیں لیکن ایسی ملاقات میں انہیں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات پر ٹرمپ کا مؤقف

اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقات کسی بھی امریکی صدر کے لیے اعزاز کی بات ہوگی اور بہتر یہی ہوگا کہ ملاقات کسی کامیاب ڈیل کے بعد ہو تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آسکے۔

ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بھی اس بات پر متفق ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

فوجی طاقت یا معاہدہ، امریکا ہر صورت کامیاب ہوگا

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے دو راستے موجود ہیں، ایک سفارتی معاہدہ اور دوسرا طاقت کا استعمال۔

ان کے مطابق امریکا دونوں صورتوں میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر سفارتی حل نہ نکلا تو دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

امریکی فوج کی طاقت پر زور

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج موجود ہے اور قومی سلامتی کے معاملات میں امریکا کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے اپنی عسکری طاقت کے ذریعے خطے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آئندہ بھی قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔

میڈیا پر ایک بار پھر تنقید

اپنی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایران سے متعلق حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کرتے اور عوام تک غلط معلومات پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق “فیک نیوز” عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

آبنائے ہرمز اور ایرانی جوہری تنصیبات

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی اہم شقوں میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور عالمی تجارت کے لیے اس کا کھلا رہنا شامل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا خلا سے ایرانی جوہری مقامات کی نگرانی کر رہا ہے اور ان تنصیبات کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

روس یوکرین جنگ پر بھی بات

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں کئی تنازعات کو ختم کروا چکے ہیں اور آئندہ بھی عالمی امن کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر روس اور یوکرین کے صدور براہ راست ملاقات کریں تو جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری ہی دیرپا امن کا بہترین راستہ ہے۔

لبنان میں امن کی امید

صدر ٹرمپ نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہاں امن قائم ہو جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم اور مختلف علاقائی فریقین کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔

ایران کو سخت وارننگ

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتا ہے تو صورتحال دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے فوجیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

بھارت پر تجارتی تنقید

امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے برسوں تک امریکا سے فائدہ اٹھایا جبکہ امریکی پالیسی ساز اس صورتحال کو روکنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے بھارتی ٹیرف پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے کے امکانات پر غور کر رہی ہے، تاہم جوہری پروگرام کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے روس یوکرین جنگ، لبنان میں امن اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تفصیلات عالمی سیاست کا اہم موضوع بن سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں