39

خیبرپختونخوا کا 21 کھرب 50 ارب روپے سے زائد کا بجٹ آج پیش ہوگا، صحت، تعلیم اور سیاحت پر خصوصی توجہ

پشاور:

خیبرپختونخوا حکومت آج مالی سال 2026-27 کے لیے 21 کھرب 50 ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کرے گی۔ مجوزہ بجٹ میں صحت، تعلیم، سیاحت، ماحولیات، ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے مختلف شعبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

صحت کے شعبے کے لیے 276 ارب روپے سے زائد

بجٹ دستاویزات کے مطابق صحت کے شعبے کے لیے 276 ارب 54 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جس میں 82 فیصد رقم جاری منصوبوں اور 18 فیصد نئے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

صوبائی حکومت کا مقصد صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔

تعلیم کے لیے بڑے فنڈز

تعلیم کے شعبے میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے لیے 363 ارب روپے جبکہ ہائیر ایجوکیشن کے لیے 45 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بندوبستی اضلاع میں طلبہ کے داخلوں میں اضافے کے لیے 50 کروڑ روپے اور سرکاری اسکولوں میں مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے 8 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

سیاحت اور ماحولیات پر خصوصی توجہ

خیبرپختونخوا حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے 12 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ عالمی بینک کے تعاون سے صوبے میں 50 لاکھ سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی منصوبوں کے ذریعے 50 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ بھی بجٹ کا اہم حصہ ہے، جبکہ کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 40 فیصد مقامی آبادی پر خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

صوبائی آمدن اور اخراجات

بجٹ دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کی کل آمدنی کا تخمینہ 2305 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

وفاقی ٹیکسوں کی مد میں 1320 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 99 ارب اور نان ٹیکس آمدنی کا ہدف 51 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں 36 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔

ضم شدہ اضلاع اور ترقیاتی منصوبے

مجوزہ بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کے لیے 321 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

بندوبستی اضلاع کے جاری اخراجات کا تخمینہ 1545 ارب روپے جبکہ ترقیاتی اخراجات 426 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا تخمینہ 444 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے اخراجات میں 13 فیصد جبکہ پنشن کی مد میں 17 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران مجموعی اخراجات 988 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 431 ارب روپے تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئے۔

عوامی فلاح پر توجہ

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ بجٹ کا مقصد عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار، سیاحت اور ترقیاتی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ساتھ ہی معیشت کو مضبوط بنانے اور مقامی وسائل سے آمدنی میں اضافے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ منصوبے مؤثر انداز میں مکمل کیے گئے تو صوبے میں معاشی سرگرمیوں، روزگار اور بنیادی سہولیات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

نتیجہ

خیبرپختونخوا کا 21 کھرب 50 ارب روپے سے زائد کا مجوزہ بجٹ صحت، تعلیم، سیاحت، ماحولیات اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ کا عکاس ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے لیے بڑے فنڈز، روزگار کے نئے مواقع اور عوامی فلاحی منصوبوں کے باعث یہ بجٹ صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں