چکوال (17 جون 2026): کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں جسم پر موجود زخموں اور موت کی وجوہات سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق معصوم بچی کے جسم پر گولیوں اور گہرے زخموں سمیت مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے، جبکہ ڈاکٹروں نے اپنی ابتدائی اور حتمی طبی رائے میں ان تمام زخموں کو اینٹی مارٹم (Antemortem) قرار دیا ہے، یعنی یہ زخم موت سے پہلے لگے تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا بتایا گیا؟
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ عدیل کے جسم پر متعدد گولیوں کے نشانات اور گہرے زخم موجود تھے، جن کی وجہ سے شدید خون بہا۔
میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ جسم سے زیادہ خون ضائع ہونے کے باعث بچی کو شدید جسمانی صدمہ پہنچا، جس کے نتیجے میں اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی۔
رپورٹ میں درج طبی شواہد کے مطابق زخم موت سے قبل لگے اور ان ہی کے باعث جسمانی نظام متاثر ہوا۔
موت کی وجہ کیا بنی؟
ڈاکٹروں کے مطابق ہانیہ عدیل کی موت شدید خون بہنے کے باعث ہونے والے ہائپو وولیمک شاک (Hypovolemic Shock) کے نتیجے میں ہوئی۔
طبی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی خون بہنے اور شدید جسمانی صدمے کے باعث دل کی دھڑکن متاثر ہوئی اور بعد ازاں سانس کا نظام بھی کام کرنا چھوڑ گیا، جس کے نتیجے میں معصوم بچی جانبر نہ ہو سکی۔
میڈیکل بورڈ کی اہم رائے
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جسم پر موجود تمام زخم اینٹی مارٹم نوعیت کے ہیں، یعنی یہ تمام چوٹیں اور گولیوں کے نشانات زندگی کے دوران لگے تھے۔
طبی ماہرین نے رپورٹ میں ان زخموں کو موت کی بنیادی وجوہات میں شامل قرار دیا ہے۔
واقعے پر عوامی تشویش
ہانیہ عدیل کی ہلاکت کے واقعے نے عوامی سطح پر گہری تشویش پیدا کی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس افسوسناک واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کا عمل جاری
حکام کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو تحقیقات کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
متعلقہ ادارے شواہد اور دستیاب معلومات کی روشنی میں واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
قانونی کارروائی
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی قانونی کارروائی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
ماہرین قانون کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ عدالتی اور تفتیشی عمل میں اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم حتمی قانونی نتائج تحقیقات مکمل ہونے اور متعلقہ فورمز کے فیصلوں کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
نتیجہ
چکوال میں جاں بحق 9 سالہ ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر 11 زخموں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ طبی ماہرین کے مطابق شدید خون بہنے اور ہائپو وولیمک شاک موت کی بنیادی وجوہات قرار دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں تمام زخموں کو اینٹی مارٹم قرار دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔