24

کنیکٹیویٹی کے نام پر عوام کا استحصال قبول نہیں، آئی ٹی بل پر عوامی سماعت ضروری: سینیٹر پلوشہ خان

 ماہرین کی مشاورت کے بغیر بل منظور نہیں ہونے دیں گے، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی چیئرپرسن کا مؤقف

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی چیئرپرسن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل ترقی کے نام پر عوام پر اضافی بوجھ ڈالنا یا ان کے حقوق کو متاثر کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل پر تمام متعلقہ ماہرین، صنعت سے وابستہ افراد اور عوامی نمائندوں کی رائے لینا ضروری ہے، اس لیے اس معاملے پر کھلی عوامی سماعت (پبلک ہیرنگ) کا انعقاد کیا جائے گا۔

آئی ٹی کمیٹی اجلاس میں بل پر تحفظات

سینیٹر پلوشہ خان نے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ دو روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے بل کی مختلف شقوں پر تفصیلی بحث کی اور کئی نکات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بل میں شامل بعض تجاویز ایسی ہیں جن کے اثرات ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر، انٹرنیٹ صارفین، موبائل کمپنیوں اور عام شہریوں پر مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے اس قانون سازی کو جلد بازی میں مکمل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ماہرین کی رائے کے بغیر منظوری نہیں

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق قوانین بناتے وقت ماہرین کی مشاورت انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک متعلقہ شعبوں کے ماہرین، قانونی ماہرین، آئی ٹی انڈسٹری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی آراء نہیں لی جاتیں، اس بل کی منظوری ممکن نہیں ہوگی۔

ان کے مطابق، قانون سازی کا مقصد عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی پالیسیاں متعارف کرانا جن سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

پبلک ہیرنگ کرانے کا اعلان

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ وہ اس بل پر کھلی عوامی سماعت کرانا چاہتی ہیں تاکہ ہر متعلقہ فریق کو اپنی رائے دینے کا موقع مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مشاورت سے نہ صرف بہتر قانون سازی ممکن ہوگی بلکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے تنازعات اور غلط فہمیوں سے بھی بچا جا سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی ایک اہم ضرورت ہے، لیکن اس عمل میں شفافیت، احتساب اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

قومی اسمبلی سے سینیٹ تک بل کی منتقلی پر سوالات

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہو کر سینیٹ تک کس طریقہ کار کے تحت پہنچا۔

کمیٹی اراکین نے اس حوالے سے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی اور اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی کے تمام آئینی اور پارلیمانی مراحل کو مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔

ڈیجیٹل پاکستان اور عوامی حقوق

سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو آگے بڑھانے کی کوششیں قابل تعریف ہیں، تاہم اس عمل میں عوامی حقوق، صارفین کے تحفظ اور کاروباری طبقے کے مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ، موبائل کمیونیکیشن اور جدید ٹیکنالوجی آج کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں، اس لیے ان شعبوں سے متعلق قانون سازی کرتے وقت تمام ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کے لیے اہم قانون سازی

ماہرین کے مطابق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں مستقبل میں ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری، انٹرنیٹ خدمات اور ٹیلی کام انڈسٹری پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کی جانب سے اس بل کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ایسا متوازن قانون سامنے آئے جو ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات کو پورا کرے اور دوسری جانب عوام اور صنعت کے مفادات کا بھی تحفظ کرے۔

شفاف قانون سازی کی ضرورت

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ادارہ ہے اور ہر اہم قانون پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔ اگر کسی قانون کے بارے میں خدشات موجود ہوں تو انہیں دور کرنا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ تمام فیصلے شفاف انداز میں کیے جائیں اور کسی بھی بل کو متعلقہ فریقین کی مشاورت کے بغیر حتمی شکل نہ دی جائے۔

اختتامیہ

سینیٹر پلوشہ خان کے مطابق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل ایک اہم قانون سازی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماہرین کی رائے، عوامی مشاورت اور پبلک ہیرنگ کے بغیر اس بل کی منظوری مناسب نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل ترقی کے نام پر عوام کا استحصال نہیں کیا جا سکتا، اور قانون سازی کا بنیادی مقصد عوامی مفاد اور ملکی ترقی ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں