وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بجٹ خطاب کے دوران اپوزیشن کا شدید احتجاج
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرنے کے موقع پر سیاسی ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب اپوزیشن کی خواتین ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی۔ احتجاج کے باعث اسمبلی کی کارروائی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی۔
بجٹ اجلاس کا آغاز اور احتجاج
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جب مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر رہے تھے تو اپوزیشن جماعتوں کی خواتین ارکان نے بجٹ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا شروع کر دیا۔ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایوان کے وسط میں آگئیں اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔
احتجاج کے دوران ایوان کا ماحول خاصا گرم رہا اور بجٹ تقریر کئی مرتبہ شور شرابے کی نذر ہوتی رہی۔ اپوزیشن ارکان کا مؤقف تھا کہ بجٹ میں عوامی مسائل کو مناسب انداز میں شامل نہیں کیا گیا۔
خواتین ارکان ڈائس تک پہنچ گئیں
احتجاج میں شدت اس وقت آئی جب اپوزیشن کی خواتین ارکان اسپیکر کے ڈائس کی جانب بڑھیں۔ اس دوران حکومتی خواتین ارکان بھی ان کے سامنے آگئیں، جس کے باعث دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایوان میں موجود دیگر ارکان نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم کچھ دیر تک کشیدگی برقرار رہی۔ اس ہنگامہ آرائی کے باعث اسمبلی کی کارروائی میں بھی تعطل پیدا ہوا۔
وزیراعلیٰ کو احتجاجاً دستاویزات دکھانے کی کوشش
اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعت کی ایک خاتون رکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی تقریر کے دوران ان کی نشست کے قریب پہنچ گئیں۔ انہوں نے احتجاجاً کچھ دستاویزات وزیر اعلیٰ کو دکھانے کی کوشش کی تاکہ اپنے تحفظات ریکارڈ کرا سکیں۔
اس موقع پر حکومتی ارکان نے اعتراض کیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے اپنی ساتھی رکن کی حمایت کی، جس سے ایوان میں شور شرابا مزید بڑھ گیا۔
اسپیکر کی مداخلت اور کارروائی بحال کرنے کی کوشش
اسمبلی میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد اسپیکر نے متعدد مرتبہ اراکین کو اپنی نشستوں پر واپس جانے اور پارلیمانی روایات کا خیال رکھنے کی ہدایت کی۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم ایوان کے وقار اور قواعد و ضوابط کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان کی مداخلت کے بعد صورتحال کسی حد تک قابو میں آئی اور کارروائی دوبارہ آگے بڑھائی گئی۔
بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے اختلافات
خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور عوام کو درپیش دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات شامل نہیں کیے گئے۔ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی مختلف تجاویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور مزید بحث کا مطالبہ کیا۔
سیاسی ماحول میں گرما گرمی
بجٹ اجلاس کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ اجلاس ہمیشہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے اپنی اپنی پالیسیوں اور مؤقف کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا اہم موقع ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم اسمبلی کے فلور پر برداشت اور پارلیمانی روایات کا خیال رکھنا تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بجٹ اجلاس کی اہمیت
خیبر پختونخوا کا بجٹ صوبے کی آئندہ مالی حکمت عملی کا تعین کرتا ہے، جس میں ترقیاتی منصوبوں، سرکاری ملازمین، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بجٹ اجلاس کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
اس سال کے بجٹ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات نے ایوان کی کارروائی کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، جبکہ عوام کی نظریں بجٹ میں شامل مختلف اعلانات اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہیں۔
پارلیمانی روایات برقرار رکھنے پر زور
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں احتجاج اپوزیشن کا آئینی حق ہے، لیکن ایوان کے تقدس اور قانون سازی کے عمل کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے تمام جماعتوں کو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اہم قومی اور صوبائی معاملات پر مثبت اور تعمیری بحث ہی جمہوری روایات کو مضبوط بنا سکتی ہے اور عوام کے مسائل کے بہتر حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اختتامیہ
خیبر پختونخوا اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی خواتین ارکان کے شدید احتجاج، حکومتی ارکان سے تلخ کلامی اور ایوان میں ہنگامہ آرائی نے سیاسی ماحول کو گرما دیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بجٹ خطاب کے دوران پیش آنے والے یہ واقعات سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں، جبکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نظریں بجٹ پر ہونے والی آئندہ بحث اور فیصلوں پر مرکوز ہیں۔