21

سرگودھا: 8 سالہ منتہا زہرہ زیادتی و قتل کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

شواہد کی برآمدگی کے دوران فائرنگ کا واقعہ

سرگودھا (24 جون 2026) — پنجاب کے شہر سرگودھا میں 8 سالہ بچی منتہا زہرہ کے زیادتی اور قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس کے مرکزی ملزم ارسلان کو مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔

سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) حکام کے مطابق ملزم ارسلان کو شواہد کی برآمدگی کے لیے مختلف مقامات پر لے جایا جا رہا تھا۔ اسی دوران جھال چکیاں تین پلی کے قریب اچانک نامعلوم مسلح افراد نے سی سی ڈی ٹیم پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

سی سی ڈی ٹیم پر حملہ اور جوابی کارروائی

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے ملزم کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے فوری طور پر پوزیشن سنبھالتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران مرکزی ملزم ارسلان گولی لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ حملہ آور اندھیرے اور موقع کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ حملے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

اضافی نفری طلب، سرچ آپریشن شروع

واقعے کے فوراً بعد علاقے میں پولیس اور سی سی ڈی کی اضافی نفری طلب کر لی گئی۔ سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔

حکام کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آوروں کے ممکنہ ٹھکانوں اور سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔

منتہا زہرہ کیس نے ملک بھر میں غم و غصہ پیدا کیا

واضح رہے کہ 8 سالہ منتہا زہرہ کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا تھا۔ کم سن بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کی تلاش جاری رہی، تاہم بعد ازاں اس کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کی اطلاعات سامنے آئیں جنہوں نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور مختلف شواہد کی مدد سے مرکزی ملزم ارسلان کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد کیس میں اہم پیش رفت ہوئی۔

ملزم کا اعتراف جرم

تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم ارسلان نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ اس نے کم سن بچی منتہا زہرہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا۔

ملزم کے اعتراف کے بعد کیس مزید حساس ہو گیا تھا اور عوام کی جانب سے سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا جبکہ مختلف سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

عوامی ردعمل اور انصاف کا مطالبہ

منتہا زہرہ کیس نے ایک بار پھر بچوں کے تحفظ اور معاشرتی جرائم کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اور سخت قانونی سزائیں ناگزیر ہیں۔

متاثرہ خاندان اور عوام کی بڑی تعداد اب بھی اس کیس میں مکمل تحقیقات اور تمام ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

تحقیقات جاری

پولیس اور سی سی ڈی حکام کے مطابق جھال چکیاں کے قریب پیش آنے والے پولیس مقابلے اور فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث فرار ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

سیکیورٹی اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

منتہا زہرہ کیس نہ صرف سرگودھا بلکہ پورے ملک میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ عوام متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کے منتظر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں