سرگودھا میں معصوم بچی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت
سرگودھا: آٹھ سالہ منتہا زہرہ کے اغوا، مبینہ زیادتی اور قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کی حراست میں موجود مرکزی ملزم محمد ارسلان نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، جس کے بعد کیس میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
چاروں ملزمان عدالت میں پیش
پولیس نے کارروائی مکمل کرنے کے بعد کیس میں گرفتار چاروں ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان سے مزید شواہد اور حقائق حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
اغوا کے بعد مبینہ زیادتی اور قتل
پولیس کے مطابق آٹھ سالہ منتہا زہرہ کو اغوا کرنے کے بعد مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے پورے شہر کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
تحقیقات کے دوران واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے۔ فوٹیج میں معصوم بچی کو آخری مرتبہ ایک دکان میں داخل ہوتے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں اسی عمارت کی تیسری منزل سے اس کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
مرکزی ملزم فرار ہوگیا تھا
واقعے کے بعد مرکزی ملزم محمد ارسلان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور مختلف ذرائع کی مدد سے اس کا سراغ لگا کر گرفتار کر لیا۔
ملزم کا دورانِ تفتیش اعتراف
پولیس حکام کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم محمد ارسلان نے بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور بعد ازاں قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ تفتیشی ادارے اعترافی بیان کی روشنی میں مزید شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ کیس کو مضبوط بنایا جا سکے۔
شہر بھر میں غم و غصے کی لہر
منتہا زہرہ کے قتل کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مختلف سماجی اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت ترین قانونی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
منتہا زہرہ کی نماز جنازہ ادا
دوسری جانب مقتولہ منتہا زہرہ کی نماز جنازہ آہوں اور سسکیوں میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور معصوم بچی کے لیے دعائے مغفرت کی۔
مرکزی قبرستان میں سپرد خاک
نماز جنازہ کے بعد منتہا زہرہ کو شہر کے مرکزی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر اہل خانہ غم سے نڈھال دکھائی دیے جبکہ شہریوں نے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔
تحقیقات کا عمل جاری
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔