یومِ عاشور کے موقع پر صوبے بھر میں دو روزہ تعطیل
کراچی: حکومتِ سندھ نے یومِ عاشور (9 اور 10 محرم الحرام) کے موقع پر صوبے بھر میں 25 اور 26 جون کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت صوبائی حکومت کے ماتحت تمام دفاتر اور ادارے دو روز تک بند رہیں گے۔ اس حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت پر باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران مذہبی اجتماعات، جلوسوں اور مجالس کے انعقاد کے پیش نظر تعطیل کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں کن اداروں کو شامل کیا گیا؟
حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عام تعطیل کا اطلاق صوبائی حکومت کے تحت کام کرنے والے تمام سرکاری دفاتر، خود مختار اداروں، مقامی کونسلوں، میونسپل اداروں اور کارپوریشنز پر ہوگا۔
اس دوران بیشتر سرکاری امور معطل رہیں گے جبکہ عوامی خدمات سے متعلق دفاتر بھی بند رہیں گے۔ تاہم ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو اس تعطیل سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
ہسپتال اور لازمی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ہسپتال، ایمرجنسی سروسز، ریسکیو ادارے، فائر بریگیڈ، واٹر اینڈ سیوریج سروسز اور دیگر لازمی خدمات انجام دینے والے ادارے معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔
اسی طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ انتظامی دفاتر بھی اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق انجام دیں گے تاکہ یومِ عاشور کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی ہائی الرٹ
حکومت سندھ نے یومِ عاشور کے جلوسوں اور مجالس کے موقع پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ محکمہ داخلہ، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حساس مقامات کی نگرانی بڑھانے اور جامع سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع میں سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
کراچی سمیت بڑے شہروں میں خصوصی سیکیورٹی پلان
کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور دیگر شہروں میں یومِ عاشور کے مرکزی جلوسوں اور مجالس کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
پولیس اور رینجرز کے ہزاروں اہلکار جلوسوں کے راستوں، امام بارگاہوں اور حساس مقامات پر تعینات رہیں گے۔ اس کے علاوہ بم ڈسپوزل اسکواڈ، اسپیشل برانچ اور انٹیلیجنس ادارے بھی سیکیورٹی نگرانی میں حصہ لیں گے۔
حکام کے مطابق جلوسوں کے راستوں کی سوئیپنگ، سی سی ٹی وی نگرانی اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
موبائل فون سروس اور ڈبل سواری پر پابندی کا امکان
سیکیورٹی حکام کے مطابق محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے موبائل فون سروسز کی جزوی معطلی اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سمیت مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔
ان اقدامات کا حتمی فیصلہ سیکیورٹی اداروں کی سفارشات اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ماضی کی طرح حساس علاقوں میں اضافی حفاظتی انتظامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
شہریوں سے تعاون کی اپیل
صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں اور ٹریفک و سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر مؤثر سیکیورٹی انتظامات ممکن نہیں، اس لیے تمام شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
محرم الحرام کی مذہبی اہمیت
یومِ عاشور اسلامی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جو حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پاکستان بھر کی طرح سندھ میں بھی محرم الحرام کے دوران بڑی تعداد میں مجالس، جلوس اور مذہبی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
اسی مناسبت سے ہر سال حکومت کی جانب سے خصوصی تعطیلات اور سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ عزادار اپنے مذہبی فرائض پُرامن ماحول میں ادا کر سکیں۔
نتیجہ
حکومت سندھ کی جانب سے 25 اور 26 جون کو عام تعطیل کے اعلان کے بعد صوبے بھر میں یومِ عاشور کی تیاریاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ سرکاری دفاتر اور ادارے دو روز بند رہیں گے جبکہ ہسپتال، ایمرجنسی سروسز اور سیکیورٹی ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔ صوبائی حکومت نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔