کراچی ایسٹ سے پولیو وائرس کی موجودگی رپورٹ
کراچی (24 جون 2026) — شہر قائد سے پولیو کے حوالے سے تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ سندھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) کے مطابق صوبے بھر سے حاصل کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں سے صرف ایک نمونہ مثبت آیا ہے جبکہ دیگر نمونوں کی رپورٹس حوصلہ افزا قرار دی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس کی موجودگی کراچی ایسٹ کے علاقے سے حاصل کیے گئے ماحولیاتی نمونے میں پائی گئی، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال پر قریبی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
سندھ بھر سے حاصل کیے گئے ماحولیاتی نمونوں کی رپورٹ
ای او سی کے مطابق جون 2026 کے دوران سندھ کے مختلف اضلاع کے سیوریج سسٹم سے مجموعی طور پر 29 ماحولیاتی نمونے حاصل کیے گئے تھے تاکہ پولیو وائرس کی نگرانی کی جا سکے۔
ان نمونوں میں سے 21 کی رپورٹس منفی آئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان علاقوں میں پولیو وائرس کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم ایک نمونہ مثبت رپورٹ ہوا ہے جبکہ 7 دیگر نمونوں کے نتائج تاحال زیرِ عمل ہیں اور ان کی رپورٹس جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق موجودہ مرحلے میں کراچی ایسٹ کے علاوہ سندھ کے کسی اور ضلع سے پولیو وائرس کی موجودگی رپورٹ نہیں ہوئی، جو صوبائی سطح پر انسداد پولیو مہم کی کامیابی کی ایک مثبت علامت سمجھی جا رہی ہے۔
ماحولیاتی نگرانی کی اہمیت
ماہرین صحت کے مطابق ماحولیاتی نمونوں کی جانچ پولیو وائرس کی بروقت نشاندہی کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سیوریج کے پانی سے حاصل کیے گئے نمونوں کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کسی علاقے میں وائرس گردش کر رہا ہے یا نہیں۔
اس نگرانی کے نظام کی بدولت متعلقہ ادارے ان علاقوں کی فوری نشاندہی کر لیتے ہیں جہاں اضافی حفاظتی اقدامات اور ویکسینیشن مہم کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
انسداد پولیو مہم کا نیا راؤنڈ جولائی میں ہوگا
سندھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ پولیو ویکسینیشن مہم کا اگلا مرحلہ کراچی کے تمام اضلاع میں 6 جولائی سے 12 جولائی 2026 تک جاری رہے گا۔
اس دوران ہزاروں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد ہر بچے تک رسائی حاصل کرنا اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکنا ہے۔
والدین سے بھرپور تعاون کی اپیل
صحت حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ انسداد پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔
ای او سی کے مطابق پولیو ایک خطرناک بیماری ہے جو بچوں کو عمر بھر کی معذوری کا شکار بنا سکتی ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس بیماری سے مکمل تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ہر مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلوانا ضروری ہے، چاہے وہ پہلے بھی متعدد بار پولیو ویکسین حاصل کر چکے ہوں۔
پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، عالمی ادارہ صحت اور دیگر شراکت دار ادارے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ویکسینیشن مہمات میں عوامی شرکت اور والدین کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے ویکسینیشن ناگزیر
کراچی ایسٹ سے مثبت ماحولیاتی نمونے کی رپورٹ کے بعد صحت حکام نے ایک بار پھر والدین کو محتاط رہنے اور اپنے بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق انسداد پولیو مہمات میں بھرپور شرکت ہی اس بیماری کے خاتمے اور آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرنے کی ضمانت بن سکتی ہے۔