34

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ماہرین کی پاکستان کے مؤقف کی حمایت، معاہدہ برقرار رکھنے پر زور

اسلام آباد (یکم جولائی 2026): سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم سیمینار میں شریک بین الاقوامی ماہرین نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اس معاہدے کو جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور آبی تعاون کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ اور اس پر مکمل عملدرآمد نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سیمینار میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے آبی وسائل کے منصفانہ استعمال، بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور خطے میں امن کے فروغ پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر تائید

سیمینار میں شریک بین الاقوامی ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون کی ایک اہم بنیاد ہے اور اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نہ صرف متعلقہ ممالک کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی اعتماد کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر وکٹر گاؤ کا مؤقف

سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن، بیجنگ کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانی کو بطور دباؤ استعمال کرنا انسانیت کے خلاف اقدام تصور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران بھی شہری آبادی کو پانی سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی روح کے منافی سمجھا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی ملک کو پانی روکنے کی دھمکی دینا انتہائی تشویش ناک عمل ہے۔

ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ اور اس پر مکمل عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے۔

روسی ماہر کی قانونی وضاحت

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے روسی ماہر ڈاکٹر زیگون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی شقوں میں کسی ایک فریق کے لیے یکطرفہ طور پر علیحدگی یا معاہدہ ختم کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو سیاسی مقاصد کے لیے کمزور کرنا عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے اور اس سے دیگر بین الاقوامی معاہدوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں امن کے لیے معاہدے کی اہمیت

ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے خطے میں آبی وسائل کی تقسیم کا ایک مؤثر فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی بدولت مختلف ادوار میں کشیدگی کے باوجود آبی تعاون کا نظام برقرار رہا، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پانی جیسے بنیادی وسائل کو تنازعات کے بجائے تعاون اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور

سیمینار کے شرکاء نے کہا کہ عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک بین الاقوامی معاہدوں، قانونی ذمہ داریوں اور طے شدہ اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے عالمی اعتماد، علاقائی استحکام اور مشترکہ ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں، اس لیے ان کی خلاف ورزی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کا مؤقف

سیمینار میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان مسلسل سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد اور آبی تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع کی حمایت کرتا رہا ہے۔

شرکاء نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی تمام متعلقہ فریق باہمی تعاون، مذاکرات اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے آبی معاملات کو حل کرنے کو ترجیح دیں گے۔

سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ اس سیمینار میں عالمی ماہرین کی آراء کو خطے میں آبی تعاون اور امن کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مقررین کا مشترکہ مؤقف تھا کہ معاہدے کا تحفظ، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مسلسل مکالمہ ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں