لاہور (یکم جولائی 2026): لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے دلخراش ٹیوشن سینٹر سانحے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مکان مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب حادثے میں زخمی ہونے والے بیشتر بچوں کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ ایک بچے اور خاتون ٹیچر کا علاج خصوصی طبی مرکز میں جاری ہے۔
یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 14 معصوم بچے جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، جبکہ شہریوں نے تعلیمی اداروں اور عمارتوں کی حفاظت سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سانحے کا مقدمہ درج، غفلت کے الزامات شامل
پولیس نے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق حادثہ مبینہ غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ تھا، جس کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمزور اور خستہ حال چھت کے نیچے ٹیوشن سینٹر قائم کیا گیا، جبکہ اسی دوران چھت پر مرمت اور تعمیراتی کام بھی جاری رکھا گیا۔ تعمیراتی سامان اور مزدوروں کے اضافی وزن کی وجہ سے چھت اپنی مضبوطی برقرار نہ رکھ سکی اور اچانک نیچے آ گری، جس سے بچے اور ٹیچر ملبے تلے دب گئے۔
14 بچے جاں بحق، 8 افراد زخمی
ایف آئی آر کے مطابق حادثے میں 14 بچے موقع پر یا اسپتال پہنچنے کے دوران دم توڑ گئے، جبکہ خاتون ٹیچر سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔
ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبہ ہٹایا اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔ امدادی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی، جس میں پولیس، ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے حصہ لیا۔
پانچ افراد حراست میں
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد مکان مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس تعمیراتی اجازت ناموں، عمارت کی حالت اور حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ غفلت کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔
زخمی بچوں کی صحت میں بہتری
اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے چھ بچوں کی حالت بہتر ہونے پر انہیں ٹی ایچ کیو کاہنہ اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
تاہم ایک زخمی بچے اور خاتون ٹیچر کو مزید علاج کے لیے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز منتقل کیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹرز ان کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دونوں مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس
ٹیوشن سینٹر سانحے پر صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کے بعد سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
حفاظتی اقدامات کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں، ٹیوشن سینٹرز اور دیگر عوامی مقامات پر عمارتوں کی مضبوطی اور حفاظتی معیار کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خستہ حال عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں کی اجازت دینا بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام نجی ٹیوشن سینٹرز اور تعلیمی اداروں کا فوری سروے کیا جائے، عمارتوں کی فٹنس کی جانچ کی جائے اور غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک سانحات سے بچا جا سکے۔
تحقیقات جاری
پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق فرانزک رپورٹس، انجینئرنگ معائنے اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا، جبکہ غفلت ثابت ہونے پر ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
لاہور ٹیوشن سینٹر کا یہ افسوسناک سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں معصوم جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔