37

خواجہ آصف کا بھارت کو دوٹوک جواب، کشمیر کی متنازع حیثیت پروپیگنڈے سے تبدیل نہیں ہو سکتی

بھارتی بیانات پر پاکستان کا سخت ردعمل

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی حکومت کی جانب سے دیے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو ناقابل قبول سمجھتا ہے اور انہیں حقائق مسخ کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیتا ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق اس قسم کی بیان بازی نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔


جموں و کشمیر عالمی سطح پر متنازع علاقہ ہے

خواجہ آصف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت بین الاقوامی سطح پر ایک متنازع خطے کی ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بیانات یا یکطرفہ اقدامات اس قانونی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل صرف کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔


بھارت پر بے بنیاد الزامات کا جواب

وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد اور ناقابل اعتبار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے اور عالمی برادری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ اپنے داخلی مسائل اور عالمی سطح پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرے، لیکن ایسے حربے کامیاب نہیں ہوں گے۔


جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے خطرات

خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ بھارت کی اشتعال انگیز بیان بازی پورے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے جو تصادم کو ہوا دے سکتے ہیں۔


پاکستان کی امن اور مذاکرات کی پالیسی

وفاقی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کا خواہاں ہے اور اسی پالیسی پر ثابت قدم ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔


قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں، قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔


مودی حکومت پر تنقید

وزیر دفاع نے کہا کہ بھارتی حکومت کے حالیہ بیانات دراصل داخلی سیاسی دباؤ اور عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ ان کے مطابق بھارت میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی مسائل کو چھپانے کے لیے پاکستان اور کشمیر کے معاملے کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات نہ تو حقیقت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی برادری کو گمراہ کر سکتے ہیں۔


مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہی واحد راستہ

خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں ملتا، اس وقت تک خطے میں مستقل امن قائم نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں