35

ام رباب چانڈیو کا آئی جی سندھ سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ، پولیس پر سنگین الزامات

اہم نکات

  • ام رباب چانڈیو نے آئی جی سندھ کے نام خصوصی ویڈیو پیغام جاری کر دیا۔
  • کزن کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ۔
  • سندھ پولیس پر بے حسی اور غفلت کے الزامات۔
  • بااثر شخصیات کی مبینہ پشت پناہی پر شدید تنقید۔
  • قانونی جنگ جاری رکھنے اور ذمہ داروں کے تعین کا اعلان۔

ام رباب چانڈیو کا آئی جی سندھ کے نام ویڈیو پیغام

دادو میں معروف سماجی رہنما اور دخترِ سندھ ام رباب چانڈیو نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے نام ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے خاندان کو درپیش سیکیورٹی خدشات، پولیس کی مبینہ غفلت اور بااثر شخصیات کی سرپرستی میں ملزمان کے آزاد گھومنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے کزن کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔


کزن کے قتل پر پولیس کی کارکردگی پر سوالات

ام رباب چانڈیو کے مطابق اٹھارہ روز قبل ان کے والد کے نوجوان کزن کو انہی افراد نے قتل کیا جنہیں ماضی میں عدالت سے بری کیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے ابتدائی دن پولیس نے کچھ کارروائی ضرور کی، مگر اس کے بعد روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود قاتلوں کی عدم گرفتاری انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے اور متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔


نو سالہ جدوجہد کا حوالہ

ام رباب چانڈیو نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں سے وہ اپنے خاندان کے لیے انصاف کی جدوجہد کر رہی ہیں، لیکن اس دوران انہوں نے سندھ پولیس کو کبھی اس قدر بے بس نہیں دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عام پولیس اہلکار بھی مبینہ کرائے کے قاتلوں کو نہیں جانتے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی گرفتاری میں آخر کون سی طاقت رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کسی بھی دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔


تہرے قتل کیس کا بھی ذکر

اپنے ویڈیو پیغام میں ام رباب چانڈیو نے آٹھ سال قبل اپنے والد، دادا اور چچا کے تہرے قتل کیس کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم مرتضیٰ چانڈیو کو ماضی میں بااثر شخصیات کی جانب سے سہولت فراہم کی گئی اور اب ایک مرتبہ پھر اسے مبینہ طور پر روپوش کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت کارروائی کرتے تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔


سردار چانڈیو پر سنگین الزامات

ام رباب چانڈیو نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ سردار چانڈیو مبینہ طور پر ایسے منصوبے بنا رہا ہے جن کے ذریعے کرائے کے قاتلوں کو نقصان پہنچا کر اس کا الزام مدعی فریق پر ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان ہمیشہ قانون، آئین اور عدالتوں پر یقین رکھتا ہے اور انہوں نے کبھی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق وہ اپنی جدوجہد کو صرف قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھیں گے۔


قانونی جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

دخترِ سندھ نے واضح کیا کہ ان کا خاندان ہر مشکل کے باوجود انصاف کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قلم، قانون اور آئین کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور آخری سانس تک انصاف کے لیے قانونی معرکہ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے عوام اور متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


اعلیٰ پولیس حکام کو ذمہ دار قرار دینے کا اعلان

ام رباب چانڈیو نے اپنے ویڈیو پیغام کے اختتام پر خبردار کیا کہ اگر ان کے یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو مزید نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری صرف مبینہ قاتلوں یا بااثر افراد پر ہی نہیں بلکہ اپنی مبینہ غفلت کی وجہ سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ڈی آئی جی حیدرآباد طارق دھاریجو اور ایس ایس پی دادو صدام خاصخیلی پر بھی عائد ہوگی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری، شفاف اور غیر جانبدار کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا جائے تاکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔


نتیجہ

ام رباب چانڈیو کے تازہ ویڈیو پیغام نے ایک مرتبہ پھر سندھ میں انصاف، پولیس کی کارکردگی اور بااثر شخصیات کے کردار سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ اب تمام نظریں سندھ پولیس اور متعلقہ حکام پر مرکوز ہیں کہ وہ اس معاملے میں کیا عملی اقدامات کرتے ہیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے کس حد تک پیش رفت کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں