31

ملک بھر میں مون سون کا نیا اسپیل کل سے داخل، 5 اگست تک موسلادھار بارشوں اور سیلاب کا الرٹ

اہم نکات

  • 29 جولائی سے مون سون کا نیا طاقتور اسپیل ملک میں داخل ہوگا۔
  • بارشوں کا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی۔
  • اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان زیادہ متاثر ہوں گے۔
  • اربن فلڈنگ، فلیش فلڈنگ اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ۔
  • شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت۔

ملک بھر میں مون سون کا نیا طاقتور اسپیل داخل ہونے کو تیار

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 29 جولائی سے ملک میں مون سون کا ایک نیا اور طاقتور اسپیل داخل ہوگا، جو 5 اگست تک مختلف علاقوں کو متاثر کرے گا۔ اس دوران ملک کے بیشتر حصوں میں موسلادھار بارش، تیز ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ، فلیش فلڈنگ اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق یہ اسپیل حالیہ بارشوں کی نسبت زیادہ شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔


یکم اگست سے مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بھی فعال ہوگا

محکمہ موسمیات کے مطابق یکم اگست سے مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بھی بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگا، جس کے باعث بارشوں کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

یہ موسمی نظام مون سون ہواؤں کے ساتھ مل کر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں کا باعث بنے گا، جس سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔


اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا زیادہ متاثر ہوں گے

نئے مون سون اسپیل کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور گلیات میں 29 جولائی سے 4 اگست تک وقفے وقفے سے موسلادھار بارش متوقع ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے۔


فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کے باعث فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

اسی طرح بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ دریاؤں کے بالائی کیچمنٹ علاقوں اور پہاڑی ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو سکتی ہے۔

ڈی جی خان اور شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں بھی طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں 29 جولائی سے 5 اگست تک موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔

شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔


آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں طویل بارشوں کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر میں 28 جولائی کی رات سے 5 اگست تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان میں 28 جولائی کی شام سے 6 اگست تک بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔


پنجاب اور بلوچستان میں بھی بارشوں کا امکان

وسطی اور شمالی پنجاب کے مختلف اضلاع میں 29 جولائی سے 4 اگست تک بارشیں متوقع ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب میں 31 جولائی سے 3 اگست تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بھی 31 جولائی سے 3 اگست کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں

ماہرین موسمیات اور متعلقہ اداروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد احتیاط برتیں اور موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔

انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ نکاسی آب کے انتظامات مکمل رکھے جائیں، جبکہ ریسکیو ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں