39

بیرسٹر گوہر کا 5 اگست کو پشاور میں بڑے جلسے کا اعلان، آئندہ سیاسی لائحہ عمل بھی سامنے آئے گا

چیئرمین پی ٹی آئی کی اہم پریس گفتگو

اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے 5 اگست کو پشاور میں ایک بڑے عوامی جلسے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جلسے میں پارٹی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل، عوامی رابطہ مہم اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق اہم اعلانات کیے جائیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، انتخابات، دہشت گردی، آزاد کشمیر انتخابات اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی پارٹی کا مؤقف پیش کیا۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو سیاسی بہتری کی کنجی قرار

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں بہتری کا راستہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بحالی سے نکل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے تو سیاسی کشیدگی میں کمی اور معاملات میں مثبت پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل بات چیت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں استحکام پیدا ہو۔

شفاف انتخابات ہی ترقی کا راستہ ہیں

بیرسٹر گوہر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق ملنا چاہیے کیونکہ مضبوط جمہوریت ہی معاشی اور سیاسی استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں نے پاکستان کو موجودہ سیاسی اور معاشی مشکلات تک پہنچایا، جبکہ عوام ایک شفاف انتخابی نظام کے منتظر ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف

میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کسی بھی صورت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ ہر فرد کو دہشت گرد سمجھا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کی مصلحت یا نرمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

5 اگست کو پشاور میں بڑا جلسہ

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو پشاور میں ایک بڑا عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس جلسے میں پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی، عوامی تحریک اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور ایسے اجتماعات سے نمٹنے کا طریقہ بھی آئینی اور جمہوری ہونا چاہیے۔

ریاستی اداروں سے متعلق بیان

بیرسٹر گوہر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ریاست کے تینوں ستون ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں اور موجودہ حالات میں مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان رابطوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی سے ملاقات کریں گے، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور ممکنہ تعاون سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

آزاد کشمیر انتخابات پر تحفظات

آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابی بائیکاٹ کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہا، جو ان کے مطابق انتہائی کم تھا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی نے عوامی مطالبات کی حمایت کی، تاہم کسی بھی ایسے مطالبے کی تائید نہیں کی جو ریاست کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اتنے مقبول رہنما کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل مذاکرات، آئینی عمل اور جمہوری رویوں میں ہے، نہ کہ سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھانے میں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے سیاسی ماحول میں بہتری آئے گی۔

کشمیر سے پاکستان کے تعلق پر مؤقف

بیرسٹر گوہر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کشمیر کے مسئلے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی “شہ رگ” ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کا تاریخی، جغرافیائی اور جذباتی تعلق ہمیشہ برقرار رہے گا۔

ان کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

سیاسی سرگرمیوں میں تیزی کا امکان

سیاسی مبصرین کے مطابق 5 اگست کو ہونے والا پی ٹی آئی کا جلسہ ملکی سیاست میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس جلسے میں پارٹی کی آئندہ حکمت عملی، احتجاجی پروگرام اور تنظیمی فیصلوں پر خصوصی توجہ دیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتیں بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہی ہیں، جس کے باعث آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول مزید متحرک ہونے کی توقع ہے۔

نتیجہ

بیرسٹر گوہر کی پریس گفتگو نے پاکستان تحریک انصاف کی آئندہ سیاسی سمت کے حوالے سے کئی اہم اشارے دیے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بحالی، شفاف انتخابات کا مطالبہ، دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اور 5 اگست کو پشاور میں بڑے جلسے کا اعلان آئندہ دنوں میں ملکی سیاست کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔ اب تمام نظریں اس جلسے پر مرکوز ہیں، جہاں پارٹی اپنے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں کا اعلان کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں