آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بعد آج مظفر آباد میں دو اہم حلقوں میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ موسم کی خرابی کے باعث ملتوی ہونے والے حلقہ ایل اے 27 مظفر آباد ون اور ایل اے 28 مظفر آباد ٹو میں پولنگ صبح سے شروع ہو چکی ہے اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ ان دونوں حلقوں میں انتخابی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی آمد بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
موسم کی خرابی کے باعث ملتوی الیکشن آج منعقد
الیکشن کمیشن کی جانب سے موسم کی خراب صورتحال کے باعث ایل اے 27 مظفر آباد ون میں پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔ اب حالات بہتر ہونے پر آج اس حلقے میں ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔ اسی طرح ایل اے 28 مظفر آباد ٹو کے 54 پولنگ اسٹیشنز پر بھی ووٹنگ جاری ہے۔ انتظامیہ نے انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
پولنگ کا وقت اور انتظامات
پولنگ کا آغاز صبح مقررہ وقت پر ہوا اور یہ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ الیکشن کمیشن نے ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ن لیگ کی مجموعی برتری برقرار
اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کی ہے۔ ن لیگ 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 5 نشستیں اپنے نام کی ہیں۔ ان نتائج کے بعد ن لیگ نے اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔
مظفر آباد ڈویژن کے نتائج
چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے مظفر آباد ڈویژن کے سات حلقوں کے نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ ان نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی نے تین نشستیں جیتیں۔ ان نتائج نے مجموعی انتخابی منظرنامے میں ن لیگ کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔
مہاجرین کی نشستوں پر ن لیگ کا غلبہ
غیر سرکاری نتائج کے مطابق مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں میں سے 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی، جبکہ صرف دو نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مہاجرین کی نشستوں پر اس کامیابی نے ن لیگ کو حکومت سازی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدوار
مسلم لیگ (ن) کے کئی اہم رہنما مختلف حلقوں سے کامیاب ہوئے ہیں۔
- ایل اے 25 نیلم ون سے شاہ غلام قادر کامیاب قرار پائے۔
- ایل اے 30 مظفر آباد سے مصطفیٰ بشیر نے کامیابی حاصل کی۔
- ایل اے 31 سے ثاقب مجید راجا فاتح رہے۔
- ایل اے 32 سے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر کامیاب ہوئے۔
مہاجرین کی نشستوں پر بھی ن لیگ نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
- ایل اے 34 سے ناصر حسین
- ایل اے 35 سے چوہدری اسماعیل گجر
- ایل اے 36 سے حسن حافظ رضا
- ایل اے 37 سے مریم جاوید
- ایل اے 38 سے چوہدری ذیشان
- ایل اے 39 سے راجہ محمد صدیق
- ایل اے 41 سے محمد عامر شاہ
- ایل اے 42 سے سید شوکت علی شاہ
- ایل اے 43 سے محمد یاسین لون
- ایل اے 44 سے محمد احمد رضا قادری کامیاب ہوئے۔
پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار
پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی کئی اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔
- ایل اے 26 نیلم ٹو سے میاں عبد الوحید
- ایل اے 29 مظفر آباد سے سردار مختار
- ایل اے 33 سے دیوان علی خان
مہاجرین کی نشستوں میں پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں میں شامل ہیں۔
- ایل اے 40 کشمیر ویلی ون سے عامر عبدالغفار
- ایل اے 45 کشمیر ویلی سکس سے عبدالماجد خان
حکومت سازی کی صورتحال
اب تک سامنے آنے والے نتائج کے بعد سیاسی حلقوں میں حکومت سازی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سادہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی بھی اپنی کامیابیوں کو اہم قرار دے رہی ہے۔ آج ہونے والی پولنگ کے نتائج کے بعد اسمبلی کی حتمی سیاسی تصویر مزید واضح ہو جائے گی۔
ووٹرز کا جوش و خروش
مظفر آباد کے دونوں حلقوں میں ووٹرز کی جانب سے بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خواتین، بزرگ اور نوجوان بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔ انتخابی عمل کو پرامن رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ عملے کو ہدایت دی ہے کہ ووٹنگ کے دوران شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
حتمی نتائج کا انتظار
سیاسی جماعتوں اور عوام کی نظریں اب آج ہونے والی پولنگ کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ ایل اے 27 اور ایل اے 28 کے نتائج سامنے آنے کے بعد آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تصویر مکمل ہو جائے گی۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں نئی حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں ہوگی، جبکہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ایک مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔