40

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ رد و بدل پر نئی سمری، ڈیلرز مارجن میں اضافہ

روزانہ قیمتوں کے نظام پر نظرِ ثانی کی تجویز

کراچی میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ رد و بدل کے معاملے پر وزیر اعظم کو نئی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جنگی کشیدگی میں کمی کے باعث قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار دوبارہ پہلے جیسا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ملک خدا بخش نے کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو بھیجی گئی سمری میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل کرنے کے بجائے ہر 7 یا 15 روز بعد مقرر کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ان کے مطابق عالمی حالات میں تبدیلی کے بعد قیمتوں کے تعین کے موجودہ نظام پر نظرِ ثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

ڈیلرز مارجن میں 1 روپے 34 پیسے اضافہ

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کی دھمکی کے بعد حکومت نے ڈیلرز کے مارجن میں 1 روپے 34 پیسے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیلرز کا مجموعی مارجن 10 روپے ہو گیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے مارجن میں اضافے اور مذاکرات میں پیش رفت کے بعد ہفتے کو ہونے والی ہڑتال ملتوی کر دی۔ تاہم ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی مکمل منظوری تک احتجاج کا حق برقرار رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے مارجن میں اضافے کی منظوری دی

چیئرمین ملک خدا بخش نے بتایا کہ اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد وزیر پیٹرولیم نے ٹیلیفونک رابطے کے ذریعے وزیراعظم کی جانب سے ڈیلرز مارجن میں 1 روپے 34 پیسے اضافے کی منظوری سے آگاہ کیا۔

ان کے مطابق وزیراعظم کی منظوری سے متعلق سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت کے اس اقدام کو مذاکرات میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ڈیلرز کا 8 فیصد مارجن کا مطالبہ

ملک خدا بخش نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن طویل عرصے سے ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ڈیلرز کی جانب سے 8 فیصد مارجن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان اس معاملے پر ایک مشترکہ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو ڈیلرز کے مطالبات اور مارجن کے معاملے کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مشترکہ کمیٹی کی سفارشات اور حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے پیش نظر ہڑتال مؤخر کی گئی ہے، تاہم اگر مطالبات پر عملی پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

تین سال سے مارجن میں اضافہ نہ ہونے کا دعویٰ

پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے ڈیلرز کے مارجن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق مارجن میں اضافہ نہ ہونے کے باعث حکومت کے پاس ڈیلرز کے تقریباً 50 ملین ڈالر رکے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کو بڑھتے ہوئے اخراجات، کاروباری ضروریات اور دیگر مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں مارجن میں مناسب اضافہ ڈیلرز کے لیے ضروری ہے تاکہ پیٹرول پمپس کا کاروبار مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

ملک بھر کے پیٹرول پمپس کی ڈیجیٹائزیشن

پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین انور کمال نے بتایا کہ حکومت نے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے 23 مارچ 2027 تک مہلت دی ہے۔ ان کے مطابق پیٹرول پمپس کی ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر عائد کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 14 ہزار پیٹرول پمپس موجود ہیں، تاہم ان میں سے صرف 10 فیصد کے قریب پیٹرول پمپس اب تک ڈیجیٹائز ہو سکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقررہ مدت کے دوران باقی پیٹرول پمپس کو بھی ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنا ہوگا۔

ڈیجیٹل نظام سے شفافیت کی توقع

پیٹرول پمپس کی ڈیجیٹائزیشن کو پٹرولیم شعبے میں جدید نظام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں، فروخت اور دیگر معاملات کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مقررہ مدت میں پیٹرول پمپس کو ڈیجیٹائز کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی اس عمل کو مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ہڑتال ملتوی، احتجاج کا حق برقرار

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے مارجن میں اضافے اور مذاکرات کے نتیجے میں ہفتے کو ہونے والی ہڑتال ملتوی کر دی ہے۔ تاہم ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کی یقین دہانیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

ملک خدا بخش کے مطابق ڈیلرز اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے۔ مشترکہ کمیٹی کی رپورٹ اور حکومت کے آئندہ اقدامات کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی۔

قیمتوں کے نظام میں ممکنہ تبدیلی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر 7 یا 15 روز بعد مقرر کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں موجودہ روزانہ قیمتوں کے نظام میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال میں کمی کے بعد قیمتوں کے تعین کے سابقہ طریقہ کار پر واپس جانے پر غور کیا جانا چاہیے۔

حکومت کی جانب سے نئی سمری اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے بعد پیٹرولیم شعبے میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں مشترکہ کمیٹی کی سفارشات اور حکومت کے فیصلے اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں