22

کیا شہباز شریف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی؟ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے واضح مؤقف دے دیا

حکومت کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات کے بعد ملک میں موجودہ حکومتی نظام اور وفاقی حکومت کے مستقبل سے متعلق مختلف سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ان بیانات کے تناظر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ آیا وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اپنی آئینی مدت سے پہلے ختم ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اپنا واضح مؤقف پیش کیا ہے۔

طارق فضل چوہدری کا دوٹوک بیان

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے وقت سے پہلے خاتمے سے متعلق گردش کرنے والی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کے مطابق حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے اور اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان تعاون برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں حکومت اپنی توجہ عوامی مسائل، معاشی استحکام اور انتظامی امور کی بہتری پر مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

آزاد کشمیر انتخابات پر ردعمل

طارق فضل چوہدری نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات مناسب نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ایسے انتظامی ماحول میں منعقد ہوئے جہاں متعلقہ حکومت کی نگرانی موجود تھی، اس لیے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانے سے پہلے تمام حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم انتخابی نتائج کے بعد ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زور

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں الزام تراشی کے بجائے سیاسی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو فروغ دینا زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں نفرت، تقسیم اور سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام جماعتوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ جمہوری نظام مزید مضبوط ہو سکے۔

حکومتی اتحاد کے حوالے سے مؤقف

طارق فضل چوہدری نے حکومتی اتحاد کے مستقبل کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ ان کے مطابق اس وقت یہ تاثر درست نہیں کہ اتحادی جماعتیں وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان رابطے موجود ہیں اور حکومت اپنے آئینی مینڈیٹ کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں اتحاد کے ٹوٹنے یا حکومت کے خاتمے کے امکانات نظر نہیں آتے۔

وزیراعظم شہباز شریف پر اعتماد

وفاقی وزیر نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ان سے زیادہ موزوں وزیراعظم کوئی نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم ملکی معیشت، انتظامی اصلاحات اور سفارتی معاملات پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور حکومت اہم قومی معاملات پر پیش رفت کے لیے سرگرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے اور حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سیاسی استحکام کی ضرورت

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی قیاس آرائیوں کے بجائے عملی اقدامات اور باہمی تعاون کو ترجیح دینا ملکی مفاد میں قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم ان اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنا ہی بہتر راستہ سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے بیان سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ موجودہ حکومت کے قبل از وقت خاتمے یا حکومتی اتحاد کے ٹوٹنے کے امکانات موجود نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ الزام تراشی کے بجائے قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں