34

27 ستمبر احتجاج: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا بڑا اعلان، خود قیادت کرنے کا فیصلہ

پشاور (10 اگست 2026): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے اور وہ خود اس احتجاج کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کے احتجاج میں کم از کم 20 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

سہیل آفریدی نے ڈیجیٹل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی پوری قیادت اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ صورتحال میں مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرتبہ احتجاج کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی اور قیادت نے کامیابی کے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

27 ستمبر کے احتجاج کا فیصلہ مشاورت سے کیا گیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کی کال کسی فرد کی ذاتی رائے یا یکطرفہ فیصلہ نہیں بلکہ پارٹی قیادت سے مکمل مشاورت کے بعد دی گئی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد قیادت نے احتجاج کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام اہم رہنما اس معاملے پر ایک رائے رکھتے ہیں اور ان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ سیاسی حقوق اور مطالبات کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے۔

خود احتجاج کی قیادت کرنے کا اعلان

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ 27 ستمبر کے احتجاج کو خود لیڈ کریں گے۔ ان کے مطابق احتجاج میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے اور کم از کم 20 لاکھ افراد کے آنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور کارکنوں و عوام کو متحرک کرنے کے لیے پارٹی سطح پر تیاریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں احتجاج کو ایک اہم سیاسی مرحلے سے تعبیر کیا۔

مذاکرات کی پیشکش نہیں، دھمکیاں مل رہی ہیں، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پارٹی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کے بجائے دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکرات کے بجائے دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے سیاسی جدوجہد کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ سہیل آفریدی کے مطابق پارٹی اس مرتبہ کامیابی کے عزم کے ساتھ احتجاجی تحریک میں داخل ہوگی۔

احتجاج ایک دن کا ہوگا

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کا احتجاج صرف ایک دن تک جاری رہے گا، تاہم یہ احتجاج کسی ایک مقام تک محدود نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مختلف مقامات پر کیا جائے گا اور بڑی تعداد میں کارکنوں اور عوام کی شرکت متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جا رہی ہے تاکہ کارکنوں کو منظم انداز میں متحرک کیا جا سکے اور احتجاج کو مؤثر بنایا جا سکے۔

بانی کی صحت پر ایمرجنسی کال کا امکان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بانی کی صحت کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر صحت کی صورتحال سنگین ہوئی تو ایمرجنسی کال دی جا سکتی ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں پارٹی قیادت فوری طور پر کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے ہنگامی اعلان کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایمرجنسی کال دی جاتی ہے تب بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کال برقرار رہے گی۔

گرفتاری یا نااہلی کی صورت میں قیادت جاری رکھنے کا عزم

سہیل آفریدی نے اپنے ممکنہ گرفتاری یا نااہلی کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں نااہل یا گرفتار کیا گیا تو پارٹی کا جھنڈا کوئی اور رہنما تھامے گا اور سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کرا دی ہے جس میں گرفتاری کی صورت میں آئندہ کے احکامات شامل ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پارٹی قیادت کو پہلے ہی آگاہ کیا جا رہا ہے۔

پارٹی قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بتایا کہ پارٹی قیادت کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، 27 ستمبر کے احتجاج اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی کے مطابق پارٹی قیادت کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے اور احتجاجی پروگرام کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔

مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں، سہیل آفریدی

سہیل آفریدی نے کہا کہ پوری قیادت اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ حالات میں مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے کارکنوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ جدوجہد کو مکمل عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

ان کے مطابق 27 ستمبر کا احتجاج پارٹی کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوگا اور اس کے لیے عوامی سطح پر بھرپور تیاری کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کے بیان کے بعد 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں