کراچی (10 اگست 2026): نوجوان تاجر میر رضا علی کے پراسرار قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے گلستانِ جوہر میں واقع ایک مشکوک گیسٹ ہاؤس کو سیل کر دیا، جبکہ کیس کے سلسلے میں عملے کے 6 افراد سمیت سوئفٹ کار میں آنے والے مزید 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق میر رضا علی کیس میں اب تک مجموعی طور پر 19 افراد کو شاملِ تفتیش کیا جا چکا ہے۔ زیرِ حراست افراد سے نئی تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم بھی پوچھ گچھ کرے گی، جبکہ پولیس مختلف پہلوؤں سے شواہد اور بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مشکوک گیسٹ ہاؤس سیل کردیا گیا
تفتیش کے دوران پولیس نے گلستانِ جوہر میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اسے سیل کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گیسٹ ہاؤس کا نام میر رضا علی کیس کی تفتیش کے دوران سامنے آیا، جس کے بعد وہاں موجود افراد اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئیں۔
پولیس نے گیسٹ ہاؤس کے عملے کے 6 افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ تفتیشی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ گیسٹ ہاؤس میں میر رضا علی سے متعلق کوئی ایسی سرگرمی یا واقعہ پیش آیا تھا یا نہیں جو کیس کی گتھی سلجھانے میں مدد دے سکے۔
سوئفٹ کار میں آنے والے 4 افراد بھی حراست میں
پولیس نے گیسٹ ہاؤس کے عملے کے علاوہ سوئفٹ کار میں آنے والے مزید 4 افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افراد کی موجودگی، گیسٹ ہاؤس سے رابطے اور میر رضا علی کیس سے ممکنہ تعلق کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم مختلف افراد کے بیانات کو آپس میں ملا کر دیکھ رہی ہے تاکہ واقعے سے متعلق کسی تضاد یا اہم معلومات کا سراغ لگایا جا سکے۔
کیس میں 19 افراد شاملِ تفتیش
پولیس کے مطابق میر رضا علی کیس میں اب تک مجموعی طور پر 19 افراد کو شاملِ تفتیش کیا جا چکا ہے۔ ان افراد سے مرحلہ وار پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جبکہ تفتیشی ٹیم دستیاب معلومات، فون ریکارڈ اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے نئی تحقیقاتی ٹیم بھی سوالات کرے گی۔ تفتیش کا مقصد واقعے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کو سامنے لانا اور میر رضا علی کی موت سے پہلے اور بعد کی سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لینا ہے۔
28 جولائی کے رابطوں پر خصوصی توجہ
تفتیش میں 28 جولائی کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے ان تمام افراد سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے جن سے میر رضا علی نے اپنی گمشدگی سے قبل اس روز رابطہ کیا تھا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق 28 جولائی کو میر رضا علی کی جانب سے کی جانے والی آخری فون کالز اور بھیجے گئے پیغامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس ان رابطوں کی بنیاد پر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کے آخری وقت میں ان سے کون کون رابطے میں تھا۔
علی نامی شخص سے دو مرتبہ فون پر بات
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا علی نے 28 جولائی کی شب علی نامی شخص سے دو مرتبہ فون پر بات کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کالز رات 2 بج کر 13 منٹ اور 2 بج کر 16 منٹ پر کی گئیں۔
پولیس ان کالز کے دورانیے، گفتگو کے ممکنہ پس منظر اور متعلقہ شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ تفتیشی حکام یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان فون کالز کے بعد میر رضا علی کی نقل و حرکت کہاں رہی اور ان کے ساتھ کون لوگ رابطے میں تھے۔
آخری کال دوست عبداللہ کو موصول ہوئی
ذرائع کے مطابق میر رضا علی کی آخری فون کال ان کے دوست عبداللہ نے ریسیو کی تھی۔ دونوں کے درمیان تین منٹ سے زیادہ گفتگو ہوئی۔
تفتیشی ٹیم اس آخری گفتگو کو بھی اہم سمجھ رہی ہے اور عبداللہ سے میر رضا علی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور ان کے آخری رابطے کے حوالے سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آخری فون کال کے دوران میر رضا علی نے کسی خاص صورتحال، جگہ، شخص یا مسئلے کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے
واضح رہے کہ 25 سالہ تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے۔ ان کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ اور پولیس کی جانب سے تلاش کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
اگلے روز یعنی 29 جولائی کو میر رضا علی کی گولی لگی لاش گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے باقاعدہ تفتیش شروع کی گئی۔
قتل یا خودکشی؟ تفتیش میں مختلف پہلو زیرِ غور
میر رضا علی کی موت کے حوالے سے پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے کے حالات، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، فون کالز، پیغامات اور مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے گیسٹ ہاؤس سیل کرنے اور مزید افراد کو حراست میں لینے کے بعد کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی واقعے کی حتمی نوعیت کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔
میر رضا علی کیس میں 28 جولائی کے رابطوں اور مشکوک گیسٹ ہاؤس سے متعلق تحقیقات کو اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم زیرِ حراست افراد سے پوچھ گچھ کے ذریعے کیس کی اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔