فالج کے انجکشن کی قیمت 80 ہزار تک پہنچ گئی، سرکاری اسپتالوں میں عدم دستیابی سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

51

مسئلے کا پس منظر

پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں صحت کے شعبے سے متعلق ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں فالج کے علاج میں استعمال ہونے والا اہم انجکشن اوپن مارکیٹ میں 80 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس انجکشن کی قیمت میں بے پناہ اضافے اور سرکاری اسپتالوں میں عدم دستیابی نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف صحت کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے علاج کو تقریباً ناممکن بنا رہی ہے۔

ٹی پی اے انجکشن کی عدم دستیابی

دستاویزات کے مطابق فالج کے علاج کے لیے استعمال ہونے والا اہم انجکشن tPA injection خیبرپختونخوا کے کسی بھی بڑے سرکاری اسپتال میں دستیاب نہیں۔

یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب صوبائی اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں محکمہ صحت نے تفصیلات پیش کیں۔ سرکاری سطح پر اس انجکشن کی عدم دستیابی نے صحت کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مہنگائی اور عوام کی مشکلات

اوپن مارکیٹ میں اس انجکشن کی قیمت 80 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جو ایک عام شہری کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔

زیادہ تر مریض فوری طور پر اس مہنگے علاج کا بندوبست نہیں کر پاتے، جس کے باعث ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے افراد اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں پہلے ہی صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

محکمہ صحت کا مؤقف

محکمہ صحت نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ یہ انجکشن اس وقت سینٹرل پرچیز لسٹ (CPL) میں شامل نہیں ہے، جس کے باعث اسے سرکاری سطح پر خرید کر اسپتالوں میں فراہم نہیں کیا جا رہا۔

حکام کے مطابق انجکشن کی قیمت بہت زیادہ ہونے کے باعث اسے مفت فراہم کرنا یا سرکاری اسپتالوں میں دستیاب رکھنا ممکن نہیں ہو سکا۔ تاہم اس وضاحت نے عوامی تشویش کو کم کرنے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔

طبی ماہرین کی رائے

ماہرین طب کے مطابق Stroke کے مریضوں کے لیے یہ انجکشن زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فالج کے حملے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں اگر یہ انجکشن مریض کو لگا دیا جائے تو نہ صرف اس کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ مستقل معذوری سے بھی بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

اسی لیے اس انجکشن کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

ہیلتھ کیئر سسٹم پر سوالات

سرکاری اسپتالوں میں اس اہم دوا کی عدم موجودگی اور مارکیٹ میں اس کی بلند قیمت نے پورے ہیلتھ کیئر سسٹم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ماہرین اور عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

عوامی ردعمل اور مطالبات

عوام اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس انجکشن کو فوری طور پر سینٹرل پرچیز لسٹ میں شامل کرے اور اسے سرکاری اسپتالوں میں دستیاب بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر مریض کو بروقت علاج میسر آ سکے۔

ممکنہ حل اور تجاویز

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے چند اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

انجکشن کو فوری طور پر CPL میں شامل کیا جائے
سرکاری اسپتالوں میں اس کی دستیابی یقینی بنائی جائے
ادویات کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول بڑھایا جائے
ایمرجنسی کیسز کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

فالج کے انجکشن کی بڑھتی قیمت اور سرکاری اسپتالوں میں عدم دستیابی ایک سنگین انسانی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف صحت کے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ ہر شہری کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں