انمول پنکی کی سکیورٹی مزید سخت، جیل ٹرائل کی تجویز زیر غور!

31

کراچی میں منشیات کیس میں گرفتار ہائی پروفائل ملزمہ انمول عرف پنکی کے گرد گھیرا مزید سخت کردیا گیا ہے جبکہ عدالت میں پیشی کے دوران غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کی جان کو مختلف بااثر گروپس، مبینہ ڈونرز اور منشیات مافیا سے شدید خطرات لاحق ہیں جس کے باعث سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق Anmol Pinky کی حساس تفتیش جاری ہے اور کیس کے دائرہ کار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقدمے کو انتہائی حساس قرار دینے پر غور شروع کردیا ہے۔

عدالت پیشی کے دوران سخت سکیورٹی

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پیشی کے دوران انمول پنکی کا رویہ اور انداز پہلے کے مقابلے میں مختلف دکھائی دیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی حفاظت کے لیے عدالت کے اطراف غیرمعمولی سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس اس کیس میں ممکنہ طور پر جیل ٹرائل کی درخواست دائر کرنے پر غور کررہی ہے کیونکہ عدالتوں میں پیشیوں کے دوران بیرونی سکیورٹی برقرار رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

40 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل

پولیس ذرائع کے مطابق انمول پنکی کی نگرانی اور حفاظت کے لیے 40 سے زائد افسران اور اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

بغدادی تھانے کے اطراف اسنائپرز بھی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ملزمہ کو دی جانے والی کھانے پینے کی ہر چیز کو مکمل چیکنگ کے بعد فراہم کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جاسکے۔

قریبی ساتھی بھی پولیس تحویل میں

تحقیقات کے دوران انمول پنکی سمیت تین افراد پولیس تحویل میں ہیں جن میں اس کے قریبی ساتھی ذیشان اور سہیل بھی شامل ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمان کے 6 سے زائد بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن میں 6 سے 8 کروڑ روپے تک کی مشکوک ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے۔

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے منشیات منگوانے کے لیے 84 لاکھ روپے کی ادائیگیوں کے شواہد بھی حاصل کیے جاچکے ہیں۔

کیس بین الاقوامی نیٹ ورک تک پہنچ گیا؟

تحقیقاتی حکام کے مطابق کیس اب صرف کراچی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے روابط بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک تک پہنچنے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بیرون ملک سے منشیات کی سپلائی اور مالی لین دین کے شواہد سامنے آنے کے بعد مختلف ادارے بھی متحرک ہوگئے ہیں جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا کے سامنے دیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت محدود ہوتی ہے۔ کسی بھی ملزم کا مؤثر اور قابلِ قبول بیان وہی تصور کیا جاتا ہے جو باقاعدہ مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حساس مقدمات میں تحقیقات مکمل ہونے سے قبل حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی کیس موضوع بحث

انمول پنکی کیس گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں جبکہ کئی لوگ اس کیس کو ملک کے بڑے منشیات نیٹ ورک سے جوڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو خفیہ رکھا جارہا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں