ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، عدالت آج 3 بجے سنائے گی !

31

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے معروف ٹک ٹاکر Sana Yousaf قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جسے آج دوپہر 3 بجے سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق Islamabad کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی اہم سماعت ہوئی جہاں پراسیکیوشن اور مقتولہ کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔

پراسیکیوشن نے 27 گواہان پیش کیے

سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی نے عدالت کو بتایا کہ پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنے کے لیے مجموعی طور پر 27 گواہان پیش کیے۔

سرکاری وکیل کے مطابق قتل کے اگلے ہی روز ملزم Umar Hayat کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کی قانونی شناخت پریڈ بھی کروائی گئی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تمام شواہد اور گواہان کے بیانات ملزم کے خلاف مضبوط کیس بناتے ہیں۔

میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشافات

پمز اسپتال کے ڈاکٹر نے بطور گواہ عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ کو شدید نوعیت کے زخم آئے تھے۔

ڈاکٹرز کے مطابق فائرنگ واضح طور پر قتل کی نیت سے کی گئی تھی جبکہ گولی لگنے سے ثنا یوسف کے دل اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا۔

پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ میڈیکل شواہد کیس کے اہم ترین ثبوتوں میں شامل ہیں۔

موبائل فون اور چیٹ ریکارڈ بھی عدالت میں پیش

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقتولہ کے موبائل فون سے ملزم عمر حیات کا نمبر ملا تھا، جسے تفتیشی افسر نے برآمد کیا۔

بعد ازاں مقتولہ کے والد نے مال خانے میں موجود موبائل فون کی شناخت بھی کی۔

تفتیشی افسر کے مطابق موبائل چیٹ، کال ریکارڈ اور لوکیشن ڈیٹا حاصل کیا گیا جس سے واضح ہوا کہ تمام تفصیلات ملزم عمر حیات سے منسلک تھیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق ملزم اور مقتولہ کے درمیان موبائل چیٹ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جبکہ کیس سے متعلق تمام ڈیجیٹل اور میڈیکل شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جاچکے ہیں۔

مقتولہ کے وکیل کی دو مرتبہ سزائے موت کی استدعا

سماعت کے دوران مقتولہ کے وکیل سردار قدیر نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ جرم مکمل طور پر ثابت ہوچکا ہے۔

انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ملزم عمر حیات کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی جائے۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کیا اور ملزم کو ہدایت دی کہ فیصلہ سنائے جانے سے قبل اپنے وکیل کو عدالت میں پیش کرے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج Afzal Majoka نے تمام شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت نے اعلان کیا کہ اس اہم کیس کا فیصلہ آج دوپہر 3 بجے سنایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر کیس موضوعِ بحث

ثنا یوسف قتل کیس گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر بھی نمایاں موضوع بنا ہوا ہے۔ مختلف صارفین اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کیس پر اپنے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں جبکہ انصاف کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس ڈیجیٹل شواہد، میڈیکل رپورٹس اور گواہان کے بیانات کی بنیاد پر کافی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں