انمول پنکی گینگ کی خفیہ ویڈیو سامنے آگئی، منشیات کی ترسیل کا حیران کن طریقہ بے نقاب!

17

کراچی میں منشیات فروشی کے ہائی پروفائل کیس میں گرفتار Anmol Pinky اور اس کے گینگ سے متعلق مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک خفیہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں مبینہ طور پر منشیات کی ترسیل کے جدید اور خفیہ طریقہ کار کو دکھایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا نیٹ ورک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے معروف آن لائن شاپنگ برانڈز کے نام، آفیشل طرز کے بیگز اور جعلی فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کا استعمال کررہا تھا۔

خفیہ ویڈیو میں کیا دیکھا گیا؟

رپورٹس کے مطابق چند ماہ قبل ایک کسٹمر نے منشیات کی ڈیلیوری کے دوران خفیہ طور پر ویڈیو ریکارڈ کی تھی جو اب منظر عام پر آگئی ہے۔

ویڈیو کے پہلے حصے میں ایک رائیڈر کو پارسل ڈیلیور کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رائیڈر اس بات سے لاعلم ہے کہ پارسل کے اندر کیا موجود ہے۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ رائیڈر پارسل دینے کے بعد اپنی ڈیلیوری فیس وصول کرتا ہے اور وہاں سے روانہ ہوجاتا ہے۔

پارسل کے اندر سے کیا نکلا؟

ویڈیو کے دوسرے حصے میں جب کسٹمر پارسل کھولتا ہے تو ایک معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کے بیگ کے اندر خفیہ پیکٹ موجود ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس پیکٹ سے بڑی مقدار میں مبینہ طور پر ’آئس‘ برآمد ہوتی دیکھی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گینگ منشیات کی ترسیل کو عام ڈیلیوری سروس ظاہر کرکے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی چیکنگ سے بچنے کی کوشش کرتا تھا۔

پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک Karachi کے پوش علاقوں، نجی پارٹیوں اور تعلیمی اداروں میں سرگرم تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گینگ مبینہ طور پر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات تک بھی منشیات پہنچا رہا تھا۔

جعلی فوڈ ڈیلیوری یونیفارمز کا استعمال

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انمول پنکی گینگ نے ایک معروف فوڈ ڈیلیوری ایپ جیسی یونیفارمز تیار کروا رکھی تھیں۔

گینگ کے کارندے انہی یونیفارمز کو پہن کر کسٹمرز تک پارسل پہنچاتے تھے تاکہ وہ عام فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز دکھائی دیں اور کسی کو شک نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق بعض اوقات عام رائیڈ شیئرنگ یا کورئیر سروس کے رائیڈرز کو بھی استعمال کیا جاتا تھا، جنہیں صرف عام سامان کی ڈیلیوری کا بتایا جاتا تھا۔

آن لائن پیمنٹ کے ذریعے رقم وصولی

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گینگ سیکیورٹی خطرات سے بچنے کے لیے نقد رقم لینے سے گریز کرتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق کسٹمرز سے منشیات کی رقم پہلے ہی آن لائن بینکنگ، موبائل والٹس اور ڈیجیٹل پیمنٹ سروسز کے ذریعے وصول کرلی جاتی تھی۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ مالی لین دین کے ڈیجیٹل ریکارڈز بھی حاصل کیے جارہے ہیں۔

ویڈیو اور ڈیجیٹل شواہد تفتیش کا حصہ

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس خفیہ ویڈیو اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو باقاعدہ تفتیش کا حصہ بنالیا ہے۔

حکام کے مطابق ویڈیو کی مدد سے اس نیٹ ورک سے منسلک افراد، مبینہ کسٹمرز اور رائیڈرز کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی مبینہ رسائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں