کوکین ڈیلر انمول پنکی کو پروٹوکول دینے پر ایس ایس پی معطل

31

کراچی: سندھ حکومت نے ہائی پروفائل کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو عدالت میں مبینہ وی آئی پی پروٹوکول دینے کے معاملے پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے ایس ایس پی سٹی سید علی حسن کو معطل کر دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی ہدایت پر معطلی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

اس کیس نے کراچی سمیت ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ ایک گرفتار ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران خصوصی سہولیات کیوں فراہم کی گئیں۔

سندھ حکومت کا سخت نوٹس

تفصیلات کے مطابق کراچی میں گرفتار ہائی پروفائل کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیش کرنے کے دوران مبینہ طور پر غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا، جس پر صوبائی حکومت نے فوری نوٹس لیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو اس معاملے کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے بعد غفلت اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں ایس ایس پی سٹی سید علی حسن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جائیں گی تاکہ ذمہ دار افراد کا تعین کیا جا سکے۔

ایس ایس پی پر سنگین الزامات

ذرائع کا کہنا ہے کہ معطل ایس ایس پی سید علی حسن پر الزام ہے کہ انہوں نے ملزمہ پنکی کی گرفتاری اور عدالت پیشی کے معاملے کو غیر معمولی انداز میں ہینڈل کیا۔

ذرائع کے مطابق ایس ایس پی علی حسن نے متعلقہ ایس ایچ او حنیف سیال کو ہدایات دی تھیں کہ ملزمہ کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

ایس ایچ او حنیف سیال نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایس ایس پی کے دباؤ میں آکر پنکی کو جلدی عدالت میں پیش کیا۔

مزید یہ بھی انکشاف سامنے آیا کہ ملزمہ کو عدالت لانے اور واپس لے جانے کے لیے خصوصی پولیس موبائل اور اضافی عملہ فراہم کیا گیا تھا، جسے میڈیا اور عوامی حلقوں نے “وی آئی پی پروٹوکول” قرار دیا۔

پولیس رولز کی خلاف ورزی کا معاملہ

پولیس ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی ملزم کو عدالت میں پیش کرنے سے قبل 24 گھنٹے تک تفتیش کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ تاہم اس کیس میں ملزمہ کو مکمل تفتیش سے پہلے ہی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ہائی پروفائل ملزمان کے لیے سیکیورٹی انتظامات معمول کی بات ہیں، لیکن اگر کسی ملزم کو غیر ضروری سہولیات یا خصوصی پروٹوکول دیا جائے تو اس پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس حکام اور صوبائی حکومت دونوں دباؤ میں آ گئے اور فوری کارروائی کی گئی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے بعد کارروائی

ذرائع کے مطابق اے آر وائی نیوز نے اس معاملے کو نمایاں انداز میں نشر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انمول پنکی کو عدالت میں وی آئی پی انداز میں پیش کیا گیا۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور عوام کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا ایک عام ملزم کو بھی ایسی سہولیات دی جاتیں؟

عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد سندھ حکومت نے فوری طور پر انکوائری شروع کی اور ابتدائی مرحلے میں ایس ایس پی سید علی حسن کو معطل کر دیا گیا۔

انمول پنکی کیس کیوں اہم ہے؟

انمول عرف پنکی کا نام کراچی میں مبینہ منشیات نیٹ ورک کے حوالے سے خبروں میں آیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزمہ پر ہائی پروفائل افراد کو کوکین سپلائی کرنے کے الزامات ہیں۔

اس کیس نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ ملزمہ کے مبینہ روابط بااثر شخصیات سے ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

مزید تحقیقات جاری

پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر مزید افسران یا اہلکار قصوروار پائے گئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب عوام اور سیاسی حلقے اس کیس کو سندھ پولیس کے نظام اور ہائی پروفائل ملزمان کے ساتھ مبینہ نرم رویے کی ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات ہی اس کیس کے اصل حقائق سامنے لا سکتی ہیں اور یہ بھی واضح کرے گی کہ آیا واقعی ملزمہ کو غیر قانونی پروٹوکول دیا گیا تھا یا یہ صرف سیکیورٹی انتظامات کا حصہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں