مومنہ اقبال کا بڑا دعویٰ، سیاسی شخصیت سے وابستہ فرد پر ہراسانی اور دھمکیوں کے الزامات

27

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والا بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سیاسی شخصیت سے وابستہ فرد کی جانب سے انہیں اور ان کے اہلخانہ کو مسلسل ذہنی دباؤ، ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ اداکارہ کی انسٹاگرام اسٹوری سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مداحوں کی بڑی تعداد ان کے حق میں آواز بلند کر رہی ہے۔

انسٹاگرام اسٹوری میں سنگین الزامات

مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ وہ مریم نواز کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ایک ایم پی اے کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل آن لائن ہراسانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

اداکارہ کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر متعدد بار متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا اور شکایات بھی درج کروائیں، تاہم سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ان کی درخواستوں پر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے اور پنجاب پولیس کو بھی درخواستیں دیں لیکن انصاف فراہم کرنے کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

خاندان کو بھی خطرات لاحق ہونے کا دعویٰ

اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ قانونی کارروائی کی کوشش کے بعد ان کے خاندان کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض بااثر حلقوں کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کریں۔

مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔

متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ

اداکارہ نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مومنہ اقبال نے خبردار کیا کہ اگر ان کے معاملے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو وہ جلد پریس کانفرنس کر کے تمام ثبوت عوام کے سامنے پیش کریں گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل

اداکارہ نے مریم نواز سے بھی براہ راست اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور شفاف تحقیقات یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اختیارات کے غلط استعمال اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں گی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

مومنہ اقبال کی پوسٹ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ کئی صارفین نے کہا کہ خواتین کو ہراسانی، دھمکیوں اور ذہنی دباؤ سے تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے متعلقہ اداروں اور حکومتی حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ بعض صارفین نے مطالبہ کیا کہ اگر اداکارہ کے پاس شواہد موجود ہیں تو ان کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

آن لائن ہراسانی کا بڑھتا مسئلہ

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شوبز شخصیات، صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً اس نوعیت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن ہراسانی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے خاندان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے، اسی لیے ایسے معاملات میں فوری اور غیر جانبدار قانونی کارروائی انتہائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

معاملہ مزید سنگین ہونے کا امکان

اداکارہ کے اس بیان کے بعد سیاسی اور شوبز حلقوں میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اگر مومنہ اقبال واقعی پریس کانفرنس کر کے ثبوت سامنے لاتی ہیں تو یہ معاملہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

فی الحال متعلقہ اداروں یا سیاسی جماعت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر یہ موضوع تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں