آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے ساتھ بجٹ 2026-27 کیسا ہوگا؟ معاشی ماہرین نے اصل صورتحال واضح کر دی

39

کراچی: مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ملک بھر میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت آنے والا نیا بجٹ عوام، کاروباری طبقے اور معیشت پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کرے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے اور معاشی استحکام کے لیے اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام “آن مائی ریڈار” میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بجٹ 2026-27 کے حوالے سے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ بڑے جاگیرداروں، سرمایہ داروں یا تاجروں کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھا جائے۔ اسی طرح آئی ایم ایف نے یہ بھی نہیں کہا کہ حکومت بجلی چوری، اسمگلنگ یا غیر دستاویزی معیشت کے خلاف کارروائی نہ کرے۔

بجٹ 2026-27 میں سخت فیصلوں کی ضرورت

اسد عمر کے مطابق پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کو جرات مندانہ اور مؤثر فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت محصولات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہوگا اور ان شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا جو طویل عرصے سے اس سے باہر ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں پر ہے، جبکہ معیشت کے کئی بڑے شعبے اب بھی مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو نئے بجٹ میں ٹیکس اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پر ٹیکس کا معاملہ

پاکستان میں عرصہ دراز سے یہ بحث جاری ہے کہ زراعت، جائیداد اور بڑے کاروباری شعبوں کو مناسب ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ اسد عمر نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو معاشی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تمام طبقات پر یکساں ٹیکس پالیسی نافذ کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو عام شہریوں پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور بجٹ خسارے پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

بجلی چوری اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی چوری اور اسمگلنگ پاکستان کی معیشت کے لیے دو بڑے مسائل ہیں۔ بجلی چوری کی وجہ سے توانائی کے شعبے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ اسمگلنگ سے قانونی کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور حکومتی محصولات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

اسد عمر کے مطابق ان مسائل کا حل صرف سخت نگرانی اور مؤثر پالیسی سازی میں ہے۔ اگر حکومت ان شعبوں میں بہتری لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی ضرورت

پاکستانی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے، جس کے باعث حکومت کو ٹیکس وصولی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور بہتر نگرانی کے نظام کے ذریعے غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اور کاروبار ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔

عوام کے لیے بجٹ 2026-27 کی اہمیت

بجٹ 2026-27 کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔ اگر حکومت نئے ٹیکس عائد کرتی ہے یا سبسڈیز میں کمی کرتی ہے تو مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر محصولات بڑھانے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیابی ملتی ہے تو طویل المدتی بنیادوں پر معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بجٹ بناتے وقت عوامی مشکلات، کاروباری ماحول اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ اسی صورت میں بجٹ ملک کی معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

مالی سال 2026-27 کا بجٹ پاکستان کے لیے ایک اہم امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو محصولات میں اضافے، اخراجات میں نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بجلی چوری، اسمگلنگ اور غیر دستاویزی معیشت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت مؤثر اور جرات مندانہ اقدامات کرتی ہے تو نہ صرف معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں