امریکا اور ایران کے امن معاہدے سے پاکستان کی معیشت کو ریلیف، تیل اور مہنگائی میں کمی کا امکان
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے اور کشیدگی میں کمی کو عالمی معیشت سمیت پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خطے میں صورتحال معمول پر آتی ہے تو پاکستان میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
امن معاہدہ عالمی معیشت کے لیے خوش آئند
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے، خصوصاً خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کامیاب رہتا ہے اور خطے میں استحکام آتا ہے تو عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا، جس کا فائدہ پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک کو پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تیل سستا ہونے سے مہنگائی میں کمی کا امکان
محمد اورنگزیب کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے سے پاکستان میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا بھی ماننا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ تقریباً تمام شعبے کسی نہ کسی حد تک توانائی کے اخراجات سے منسلک ہوتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر خطے میں مستقل امن قائم رہتا ہے تو پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی شعبے کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ درآمدی بل میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بہتری جیسے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف اصلاحات پر کام کر رہی ہے اور عالمی سطح پر مثبت تبدیلیاں اس عمل کو مزید تقویت دے سکتی ہیں۔
توانائی کے شعبے کو بھی فائدہ ہوگا
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جنگی حالات اور علاقائی کشیدگی کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سپلائی چین کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر صورتحال معمول پر آتی ہے تو نہ صرف تیل اور گیس کی ترسیل بہتر ہوگی بلکہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بھی کم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ امن معاہدہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم توانائی کے نظام کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
عالمی منڈیوں میں استحکام سرمایہ کاری کے لیے اہم
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، خصوصاً اگر معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
سرمایہ کار عام طور پر سیاسی اور معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے خطے میں کشیدگی میں کمی پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے نئی معاشی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
عوام کو کس حد تک ریلیف مل سکتا ہے؟
اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس سے مہنگائی کی شرح میں کمی اور عوام کو مالی ریلیف ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے عالمی منڈی میں استحکام کا برقرار رہنا ضروری ہے، کیونکہ تیل کی قیمتیں مختلف بین الاقوامی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔
حکومت کا معاشی استحکام پر زور
وفاقی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر امن اور استحکام پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے مثبت ثابت ہوگی اور پاکستان بھی اس کے معاشی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
نتیجہ
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی پیش رفت پاکستان کے لیے ایک مثبت معاشی اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی، مہنگائی پر قابو، درآمدی اخراجات میں کمی اور مالیاتی شعبے میں استحکام جیسے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ اگر خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو پاکستان کی معیشت کو ایک بڑا ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کا براہ راست فائدہ عام شہریوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔