ایران امریکا معاہدے کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں بڑی تبدیلی
اسلام آباد (25 جون 2026): ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران اسرائیل کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات کم ہونے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی سے متعلق بے یقینی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران اسرائیل جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی تھیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں استحکام پیدا ہوا اور قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئیں۔
پاکستانی عوام کے لیے خوشخبری
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستان میں بھی نظر آ رہا ہے۔ حکومت پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کر رہی ہے اور اب وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ نے بھی مزید کمی کا عندیہ دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام “باخبر سویرا” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
ان کے مطابق موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملے گا اور مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آسکتی ہے۔
حکومت نے ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیوں کیا؟
رانا ثنااللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے باعث حکومت کو فوری فیصلے کرنے پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار نظام متعارف کرایا تاکہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق فوری ردعمل دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد عوام اور مارکیٹ دونوں کو غیر یقینی صورتحال سے بچانا تھا اور ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا بھی حکومت کی ترجیح تھی۔
تیل ذخیرہ کرنے اور اضافی لاگت کا معاملہ
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ جنگی حالات اور ممکنہ سپلائی بحران کے خدشات کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو نسبتاً زیادہ قیمتوں پر تیل خریدنا پڑا تاکہ ملک میں ایندھن کا مناسب ذخیرہ برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ آئل کمپنیاں اربوں روپے کا غیر معمولی منافع کما رہی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں منافع اور نقصان دونوں کاروبار کا حصہ ہوتے ہیں۔
رانا ثنااللہ کے مطابق بعض اوقات کمپنیوں کو فائدہ ہوتا ہے جبکہ بعض مواقع پر انہیں نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، اس لیے صورتحال کا جائزہ متوازن انداز میں لینا ضروری ہے۔
آئل کمپنیوں کے کردار پر حکومتی مؤقف
انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں آئل کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے کے باعث کچھ فائدہ ہوا ہے تو اب قیمتوں میں کمی کے دور میں انہیں عوامی مفاد کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ حکومت اس امر کا جائزہ لے گی کہ کمپنیوں کو کتنا فائدہ حاصل ہوا اور موجودہ صورتحال میں ان پر کتنا مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اگر کمپنیوں کو غیر معمولی نقصان کا سامنا ہوا تو حکومت ان کے جائز مفادات کا بھی خیال رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں ایک منظم نظام کے تحت کام کیا جاتا ہے اور اگر اس نظام میں غیر ضروری مداخلت کی گئی تو مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ
رانا ثنااللہ نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر کسی بھی آئل کمپنی یا متعلقہ ادارے کی جانب سے مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی یا سپلائی میں رکاوٹ ڈال کر عوام کو مشکلات میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی، قیمتوں کے استحکام اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
نتیجہ
ایران امریکا امن معاہدے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی پاکستانی صارفین کے لیے مثبت خبر ثابت ہو رہی ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو پٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔ حکومت نہ صرف عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنا رہی ہے کہ ملک میں تیل کی فراہمی کا نظام بلا تعطل جاری رہے۔