30

عالمی منڈی میں تیل سستا، مگر پاکستان میں پٹرولیم لیوی مزید بڑھا دی گئی

اسلام آباد (27 جون 2026): عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کے باوجود وفاقی حکومت نے عوام کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا بلکہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں مزید اضافہ کر دیا۔ حکومت کے اس فیصلے نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود ملک میں صارفین کو اس کا براہِ راست فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔

ڈیزل اور پٹرول پر نئی لیوی نافذ

حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی میں 6 روپے 57 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پٹرول پر لیوی میں 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 72 روپے 97 پیسے سے بڑھ کر 79 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح پٹرول پر لیوی 66 روپے 25 پیسے سے بڑھا کر 66 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لیوی میں اضافے سے حکومت کی آمدنی تو بڑھے گی، تاہم عوام پر مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر چکی ہے۔

مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی شرح برقرار

حکومت نے مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی لیوی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

اعلان کے مطابق:

  • مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
  • لائٹ ڈیزل آئل پر لیوی 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ مالیاتی حکمتِ عملی کے تحت صرف پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی لیوی میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق:

  • 22 جون کو عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 98.35 ڈالر فی بیرل تھی۔
  • صرف چار روز بعد یعنی 26 جون کو یہی قیمت کم ہو کر 91.68 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
  • اس طرح عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت میں 6.67 ڈالر فی بیرل کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی:

  • 109.09 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر
  • 104.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی اور طلب کے درمیان توازن بہتر ہونے کے باعث قیمتوں میں نرمی آئی ہے۔

عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملا؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ ہونے کی بڑی وجہ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز ہیں۔

حکومت اکثر عالمی قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ قومی خزانے کی آمدنی بڑھانے کے لیے لیوی کی مد میں منتقل کر دیتی ہے، جس کے باعث صارفین تک مکمل ریلیف نہیں پہنچ پاتا۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست عوام کو منتقل کیا جائے تو نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ مہنگائی کی مجموعی شرح میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔

مہنگائی پر ممکنہ اثرات

پٹرول اور ڈیزل پاکستان کی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کا استعمال ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار سمیت متعدد شعبوں میں ہوتا ہے۔

پٹرولیم لیوی میں اضافے کے باعث:

  • ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
  • اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے۔
  • صنعتی لاگت میں اضافہ ممکن ہے۔
  • مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

خصوصاً ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی زرعی شعبے، مال برداری اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

حکومت کا مالیاتی مؤقف

حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی قومی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ترقیاتی منصوبوں، مالیاتی خسارے میں کمی اور دیگر سرکاری اخراجات پورے کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

تاہم معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہو رہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کا فائدہ براہِ راست عوام تک منتقل کرے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کو کچھ ریلیف مل سکے۔

نتیجہ

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم لیوی میں اضافے نے عوام کی توقعات کے برعکس صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ حکومت اسے مالی ضروریات کے تناظر میں اہم قرار دے رہی ہے، لیکن عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی کمی کا فائدہ براہِ راست صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں