33

بلوچستان میں 5.1 شدت کا زلزلہ، 90 سے زائد مکانات تباہ، متعدد افراد زخمی

کوئٹہ (27 جون 2026): بلوچستان کے مختلف اضلاع ایک بار پھر شدید زلزلے کی لپیٹ میں آ گئے، جہاں 5.1 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ زلزلے کے باعث متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے جبکہ خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری جان بچانے کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکے

زلزلے کے جھٹکے موسیٰ خیل، بارکھان، رکنی، کوہلو اور گردونواح میں صبح سویرے محسوس کیے گئے۔ اچانک زمین لرزنے سے لوگ خوفزدہ ہو گئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

کئی علاقوں میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث لوگوں میں مزید خوف پیدا ہو گیا۔

زلزلے کی شدت اور مرکز

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز ضلع بارکھان سے 58 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔ زلزلے کی گہرائی 19 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث اس کے جھٹکے دور دراز علاقوں تک محسوس کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق کم گہرائی والے زلزلے نسبتاً زیادہ نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، اسی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔

90 سے زائد مکانات تباہ، درجنوں متاثر

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع موسیٰ خیل میں ہوا، جہاں 90 سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق کے مطابق تحصیل کنگری کے علاقوں چھاپ، راڑاشم اور کاجھوری میں 35 سے زائد مکانات شدید متاثر ہوئے جبکہ کئی گھروں کی دیواریں گر گئیں۔

واپڈا کالونی، دیہی آبادیوں اور متعدد رابطہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی

اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ کاکڑ کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں کم از کم 6 زخمیوں کی تصدیق کی گئی تھی۔

تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق متعدد گھروں کا قیمتی سامان، نقدی اور مال مویشی بھی ملبے تلے دب گئے، جس سے متاثرہ خاندانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

رابطہ سڑکیں متاثر، دور دراز علاقوں سے رابطہ منقطع

زلزلے کے باعث بعض علاقوں کی رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ کئی دور افتادہ دیہات سے رابطہ تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نقصانات کا مکمل اندازہ رابطہ بحال ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

پی ڈی ایم اے کی امدادی کارروائیاں

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا۔

ریسکیو اہلکار متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے بھی ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

متاثرین کی حکومت سے فوری امداد کی اپیل

شدید گرمی اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔

متاثرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں فوری طور پر:

  • خیمے فراہم کیے جائیں۔
  • صاف پینے کا پانی مہیا کیا جائے۔
  • خوراک اور ادویات پہنچائی جائیں۔
  • تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کے لیے مالی معاونت دی جائے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلابی ریلوں کے بعد اب زلزلے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

گزشتہ روز بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز بھی کوہلو اور اس کے گردونواح میں ایک ہی دن کے دوران تین مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جس سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ علاقے میں آفٹر شاکس کا سلسلہ کچھ وقت تک جاری رہ سکتا ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو احتیاط برتنے، خستہ حال عمارتوں سے دور رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نتیجہ

بلوچستان میں آنے والے 5.1 شدت کے زلزلے نے ایک بار پھر قدرتی آفات کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ متعدد مکانات کی تباہی، زخمی ہونے والے افراد اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے بعد متاثرہ علاقوں میں فوری اور مؤثر امدادی سرگرمیوں کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد سہولیات اور بحالی فراہم کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں