26

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 29 دہشت گرد ہلاک، اہم کمانڈر بھی مارا گیا

اسلام آباد (29 جون 2026): خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ اور فضائی آپریشن کیے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ کارروائی کے دوران کئی اہم دہشت گرد کمانڈرز بھی مارے گئے، جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔

دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ملک دشمن عناصر کے نیٹ ورک کو ختم کرنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

اہم دہشت گرد کمانڈر ہلاک

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر خان فروش عرف زبال مارا گیا، جو کئی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا اور سیکیورٹی اداروں کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

اس کے علاوہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے ایک اہم کمانڈر سمیت مزید تین دہشت گرد بھی ہلاک کیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ دہشت گرد پاکستان میں مختلف تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں سرگرم تھے۔

فضائی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز

ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز نے فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ متعدد اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کی گئیں تاکہ شہری آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سخت ردعمل

یہ کارروائیاں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد عمل میں لائی گئیں۔ ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے بعد ریاستی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بڑا نقصان

حکام کے مطابق اس آپریشن سے دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ کئی اہم کمانڈرز کی ہلاکت سے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیت متاثر ہوگی جبکہ ان کی مستقبل کی کارروائیوں کو بھی ناکام بنانے میں مدد ملے گی۔

سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ملک میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی اور سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

عوام سے تعاون کی اپیل

حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام اور سیکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ریاست کی پالیسی نہایت واضح اور سخت ہے، اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں