کراچی (29 جون 2026): پاکستان میں مون سون کے منتظر شہریوں کے لیے خوشخبری سامنے آ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا پہلا اسپیل یکم جولائی سے ملک میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب، آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں بارشوں کا آغاز ہوگا۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے بعض علاقوں میں موسلا دھار بارشوں، اربن فلڈنگ اور شدید گرمی کی لہر کے حوالے سے بھی خبردار کر دیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق اگرچہ مون سون کی بارشیں گرمی کی شدت میں کمی لا سکتی ہیں، تاہم ملک کے کئی علاقوں میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ درجہ حرارت کا امکان بھی برقرار ہے۔
یکم جولائی سے مون سون کا آغاز
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں مون سون کا پہلا نظام یکم جولائی سے پنجاب اور آزاد کشمیر میں داخل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی شمالی علاقوں اور شمال مشرقی پنجاب میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مون سون سسٹم نسبتاً معتدل ہوگا، تاہم بعض علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش بھی متوقع ہے۔
کن علاقوں میں زیادہ بارش ہوگی؟
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کا پہلا اسپیل ملک کے شمال مشرقی حصوں کو زیادہ متاثر کرے گا۔ پنجاب، آزاد کشمیر، مری، گلیات اور بالائی علاقوں میں بارش کے امکانات زیادہ ہیں، جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، شہری سیلاب اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
سندھ میں موسم کیسا رہے گا؟
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز تک سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ تاہم خلیج بنگال کے اوپر کم دباؤ کا ایک نظام بن رہا ہے، جو کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہلکی یا درمیانی بارش کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ساحلی علاقوں میں کہیں کہیں بارش متوقع ہے، لیکن مجموعی طور پر سندھ کے کئی اضلاع میں اس سال مون سون کے دوران معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا خدشہ برقرار
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان، مغربی سندھ اور وسطی پنجاب میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
اداروں کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں ہیٹ ویو کا خطرہ برقرار رہے گا، جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اربن فلڈنگ کا بھی امکان
اگرچہ مجموعی طور پر مون سون میں معمول سے کم بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں مختصر وقت میں موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے، جس سے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو نکاسی آب کے انتظامات بہتر بنانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
کسانوں اور شہریوں کے لیے اہم ہدایات
زرعی ماہرین کے مطابق مون سون کی بارشیں فصلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم شدید بارش یا گرمی کی صورت میں کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔
اسی طرح شہریوں کو بھی موسم کی تازہ ترین پیشگوئی پر نظر رکھنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں، نشیبی علاقوں اور کھلے نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی مسلسل نگرانی
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون سسٹم کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور موسم کی صورتحال میں کسی بھی بڑی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر نئی ایڈوائزری جاری کی جائے گی۔
حکام کے مطابق آئندہ چند روز ملک کے مختلف حصوں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ مون سون کے پہلے اسپیل کی شدت اور سمت کے مطابق بارشوں کی صورتحال میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند سرکاری موسمی اپ ڈیٹس پر اعتماد کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔