33

او جی ڈی سی ایل نے بوبی ڈیپ-1 سے تیل کی پیداوار شروع کر دی، پاکستان کی توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت

کراچی (29 جون 2026): آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع بوبی ڈیپ-1 کنویں سے تیل کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ملکی تیل کی پیداوار میں اضافہ، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت کی توقع ہے۔

کمپنی کے مطابق بوبی ڈیپ-1 سے حاصل ہونے والی پیداوار مستقبل میں ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور مقامی وسائل سے توانائی کے حصول کو مزید مضبوط بنائے گی۔

بوبی ڈیپ-1 سے یومیہ 2 ہزار بیرل تیل کی پیداوار

او جی ڈی سی ایل کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بوبی ڈیپ-1 کنویں سے اس وقت یومیہ تقریباً 2 ہزار بیرل خام تیل نکالا جا رہا ہے۔

اس پیداوار کو قومی آئل سپلائی سسٹم میں شامل کرنے کے لیے ڈیڑھ کلومیٹر طویل پائپ لائن بھی کامیابی سے بچھا دی گئی ہے، جس کے بعد تیل کی ترسیل کا عمل باقاعدہ شروع ہو چکا ہے۔

دریافت کے چند ہفتوں بعد پیداوار کا آغاز

یاد رہے کہ او جی ڈی سی ایل نے 3 جون 2026 کو بوبی ڈیپ-1 میں تیل کی اہم دریافت کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی نے مختصر مدت میں ضروری تکنیکی اور انفراسٹرکچر کے کام مکمل کرتے ہوئے پیداوار شروع کر دی، جسے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار ترقیاتی کام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ او جی ڈی سی ایل مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

درآمدی تیل پر انحصار میں کمی آئے گی

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر سال بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتا ہے، جس پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق بوبی ڈیپ-1 سے حاصل ہونے والی پیداوار اگر مستقبل میں مزید بڑھی تو اس سے درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا، ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔

او جی ڈی سی ایل کے 100 فیصد ورکنگ شیئرز

کمپنی کے مطابق بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں او جی ڈی سی ایل کے 100 فیصد ورکنگ شیئرز موجود ہیں، جس کے باعث اس منصوبے کی تمام سرگرمیوں کی نگرانی اور آپریشنز کمپنی خود انجام دے رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مقامی وسائل سے توانائی پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کا اہم حصہ ہے اور مستقبل میں مزید دریافتوں کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔

توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر بوبی ڈیپ-1 سے پیداوار مستقل بنیادوں پر جاری رہی اور مزید ذخائر بھی دریافت ہوئے تو اس سے پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تیل کی دستیابی میں اضافے سے صنعتی شعبے، ٹرانسپورٹ اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

قومی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی تیل کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل کو کم کرے گا بلکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔

اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، روزگار کے نئے مواقع اور مقامی صنعت کی ترقی میں بھی اس منصوبے کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔

مستقبل کے امکانات

او جی ڈی سی ایل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کا عمل مزید تیز کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو مقامی وسائل سے پورا کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بوبی ڈیپ-1 سے پیداوار کا آغاز پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، جو مستقبل میں مزید دریافتوں اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اگر اسی رفتار سے مقامی وسائل کو بروئے کار لایا گیا تو ملک توانائی کے شعبے میں زیادہ خود کفیل ہونے کی جانب نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں