پولیس مقابلے میں افغان شہری مارے گئے، اسلحہ اور بھتہ خوری میں استعمال ہونے والے موبائل فونز برآمد، ایک کروڑ روپے بھتہ کیس میں بھی مطلوب تھے
کراچی میں سی آئی اے کی کامیاب کارروائی
کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) سی آئی اے نے بھتہ خوری کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے فیضی گروپ سے تعلق رکھنے والے دو اہم کارندوں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مقصد شہر میں سرگرم بھتہ خور نیٹ ورک کو ختم کرنا تھا۔ اس آپریشن کو کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ہلاک ملزمان کی شناخت
ایس آئی یو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شیر خان عرف سہراب اور سعید محمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں افغان شہری تھے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر فیض محمد عرف فیضی کے گروپ سے وابستہ تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان مختلف جرائم میں مطلوب تھے اور ان کے خلاف پہلے سے کئی مقدمات درج تھے۔
پولیس مقابلہ کیسے ہوا؟
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران جب اہلکاروں نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا تاکہ کسی دوسرے مشتبہ شخص کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسلحہ اور موبائل فونز برآمد
کارروائی کے بعد پولیس نے ہلاک ملزمان کے قبضے سے دو پستول اور متعدد موبائل فونز برآمد کیے۔ حکام کے مطابق یہی موبائل فون بھتہ خوری کی وارداتوں میں استعمال کیے جا رہے تھے۔ برآمد شدہ شواہد کو فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے تاکہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں اور نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ایک کروڑ روپے بھتہ طلب کرنے کا مقدمہ
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ملزمان کراچی کے ایک ڈاکٹر اور نجی اسپتال کے مالک سے ایک کروڑ روپے بھتہ طلب کرنے کے مقدمے میں بھی مطلوب تھے۔ یہ مقدمہ رواں سال 5 جولائی کو کراچی کے علاقے کوئٹہ ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان مختلف کاروباری شخصیات کو دھمکیاں دے کر بھاری رقوم وصول کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
افغانستان میں موجود کمانڈر سے رابطہ
تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں ملزمان افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر فیض محمد عرف فیضی سے براہِ راست رابطے میں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو بھتہ خوری، دھمکی آمیز کالز اور دیگر جرائم کی ہدایات بیرونِ ملک سے موصول ہوتی تھیں، جن پر وہ کراچی میں عمل کرتے تھے۔
مزید تحقیقات جاری
ایس آئی یو نے برآمد ہونے والے موبائل فونز، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر سامان کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان شواہد کی مدد سے گروہ کے دیگر سہولت کاروں اور ساتھیوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کو امید ہے کہ اس کارروائی سے بھتہ خوری کے منظم نیٹ ورک کے خلاف مزید اہم پیش رفت ہوگی۔
ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ
پولیس کے مطابق ہلاک ملزمان کے خلاف پہلے سے بھتہ خوری، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات درج تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ عناصر شہر میں خوف و ہراس پھیلانے اور تاجروں و کاروباری افراد کو دھمکیاں دینے میں ملوث تھے۔
نتیجہ
کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سی آئی اے کی کارروائی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک اور بھتہ خوری کے خلاف ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ دو اہم ملزمان کی ہلاکت، اسلحہ اور ڈیجیٹل شواہد کی برآمدگی سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ شہر میں سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے خلاف مزید کارروائیاں ممکن ہوں گی۔