تعارفیہ
اسلام آباد: مشیر وزارتِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں تو ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی، مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی اور مہنگائی میں اضافے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کی موجودہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات عوام تک متوازن انداز میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
روزانہ قیمتوں کے تعین کی تجویز
خرم شہزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے۔
ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں منتقل کیا جا سکے گا، جس سے قیمتوں میں غیر ضروری تاخیر اور مصنوعی اتار چڑھاؤ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
حکومت صرف لیوی وصول کر رہی ہے
مشیر وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ اس وقت حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر صرف پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ ان مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح صفر فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ ڈالا جائے اور ایندھن کی قیمتوں کو عالمی حالات کے مطابق متوازن رکھا جائے۔
عالمی منڈی کے اثرات اور حکومتی پالیسی
خرم شہزاد نے کہا کہ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو حکومت نے اس اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا۔
اسی طرح جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو حکومت نے زیادہ سے زیادہ ریلیف عوام تک پہنچانے کی کوشش کی تاکہ صارفین کو قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ حاصل ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا مقصد عالمی قیمتوں اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔
ذخیرہ اندوزی کی روک تھام
خرم شہزاد کے مطابق اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں تو ذخیرہ اندوزی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں بعض اوقات قیمتوں میں ممکنہ اضافے یا کمی کے پیش نظر ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
روزانہ قیمتوں کے تعین سے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی اور مارکیٹ زیادہ شفاف انداز میں کام کرے گی۔
پمپ مالکان اور مافیا پر اثرات
مشیر وزارتِ خزانہ نے کہا کہ اس اقدام سے پٹرول پمپ مالکان یا کسی بھی مافیا کے لیے ایندھن ذخیرہ کر کے ناجائز منافع کمانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
ان کے مطابق جب قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو ذخیرہ اندوزی سے فائدہ حاصل کرنے کا امکان تقریباً ختم ہو جائے گا، جس کا فائدہ براہِ راست عام صارفین کو پہنچے گا۔
مہنگائی میں کمی کی امید
خرم شہزاد نے دعویٰ کیا کہ روزانہ قیمتوں کے نظام سے مہنگائی میں اضافے کے امکانات کم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں معیشت کے مختلف شعبوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے اگر قیمتوں کا نظام زیادہ شفاف اور مؤثر ہوگا تو اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام کئی ممالک میں پہلے سے رائج ہے، جہاں قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کی کامیابی کے لیے مؤثر نگرانی، شفاف پالیسی، سخت ریگولیٹری نظام اور صارفین کو بروقت معلومات کی فراہمی ضروری ہوگی تاکہ اس کے حقیقی فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔
عوامی ردِعمل
روزانہ قیمتوں کے تعین کی تجویز پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
کچھ افراد کا خیال ہے کہ اس اقدام سے مارکیٹ میں شفافیت آئے گی اور ذخیرہ اندوزی ختم ہوگی، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے صارفین اور کاروباری طبقے کو قیمتوں پر نظر رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
اختتامیہ
مشیر وزارتِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین مہنگائی پر قابو پانے، ذخیرہ اندوزی روکنے اور مارکیٹ میں شفافیت لانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایندھن کی مارکیٹ بلکہ مجموعی معیشت اور عوامی زندگی پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔