اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مسلسل چوتھے روز بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو ایک اور مہنگائی کے جھٹکے سے دوچار کر دیا۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے کر دیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت کتنی ہوگئی؟
اوگرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس اضافے نے موٹرسائیکل، کار اور دیگر نجی گاڑیوں کے مالکان کے لیے سفری اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگا
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل زیادہ تر مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مسلسل چوتھے روز اضافہ، عوام میں تشویش
اوگرا کی جانب سے مسلسل چوتھے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں، ایسے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ تقریباً ہر شعبہ کسی نہ کسی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتا ہے۔
ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرات
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو بسوں، ویگنوں، ٹرکوں اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کرایوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
اسی طرح صنعتوں اور کاروباری اداروں کے لیے خام مال کی ترسیل بھی مہنگی ہو جاتی ہے، جس کے باعث مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
زرعی شعبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے زرعی شعبہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور دیگر زرعی مشینری ڈیزل پر چلتی ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کا اثر فصلوں کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو خوراک کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
حکومت اور اوگرا کا مؤقف
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگرچہ نوٹیفکیشن میں اضافے کی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، تاہم عمومی طور پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی، درآمدی لاگت، ڈالر کی قدر اور حکومتی ٹیکس پالیسی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
عوام کا مطالبہ
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کے بجائے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے ایندھن کی قیمتوں میں استحکام آئے اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی ہو۔
نتیجہ
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز ہونے والا اضافہ نہ صرف عوام بلکہ کاروباری اور زرعی شعبوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ شہری حکومت سے فوری ریلیف اقدامات کے منتظر ہیں۔