35

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز، دریاؤں پر جدید سرویلنس سسٹم فعال

پنجاب حکومت کا سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدید ڈرون مانیٹرنگ سسٹم شروع

لاہور: پنجاب حکومت نے مون سون سیزن کے دوران ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلی بار جدید ڈرون مانیٹرنگ سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے کے اہم دریاؤں، بیراجوں اور ہیڈورکس کی مسلسل فضائی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح، بہاؤ اور ممکنہ سیلابی صورتحال پر بروقت نظر رکھی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس جدید نظام کی مدد سے متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے گا۔


ڈرون ٹیکنالوجی سے سیلاب کی پیشگی نگرانی

پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کو سیلاب کی نگرانی کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ سیف سٹی کے جدید ڈرونز کے ذریعے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور ہیڈورکس کی فضائی نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے پانی کی سطح، بہاؤ اور کناروں کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی، جس سے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو فوری طور پر الرٹ جاری کیا جا سکے گا۔


اہم دریاؤں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی

ڈرون مانیٹرنگ کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں واقع اہم آبی مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ان میں شامل ہیں:

  • پاکپتن میں دریائے راوی اور دریائے ستلج
  • سرگودھا میں دریائے چناب پر طالب والا پل
  • خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج
  • ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ
  • سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ
  • منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج

ان تمام مقامات پر پانی کی سطح، بہاؤ اور ممکنہ خطرات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع دی جا سکے۔


پاکپتن میں کناروں کے کٹاؤ کا بھی جائزہ

حکام کے مطابق پاکپتن میں دریائے راوی اور دریائے ستلج پر ڈرون مانیٹرنگ کے دوران پانی کی سطح کے ساتھ ساتھ دریا کے کناروں کے کٹاؤ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق دونوں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا اور کسی بڑے خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی، تاہم مسلسل نگرانی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔


ساہیوال میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ

حکام نے بتایا کہ ساہیوال کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم صورتحال قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ تقریباً ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جس پر متعلقہ محکمے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔


سیف سٹی کے جدید ڈرونز سے فوری معلومات کی فراہمی

سیف سٹی کے جدید ڈرونز ہائی ریزولوشن کیمروں اور جدید نگرانی کے نظام سے لیس ہیں، جن کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ڈرونز سے حاصل ہونے والی معلومات فوری طور پر کنٹرول روم تک پہنچائی جاتی ہیں، جہاں ماہرین پانی کی صورتحال کا تجزیہ کرکے متعلقہ اداروں کو بروقت ہدایات جاری کرتے ہیں۔


بروقت منصوبہ بندی اور فوری کارروائی میں مدد

حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون مانیٹرنگ کا مقصد صرف نگرانی کرنا نہیں بلکہ سیلابی صورتحال میں بروقت منصوبہ بندی کو بہتر بنانا بھی ہے۔

اگر کسی مقام پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھتی ہے یا سیلابی ریلے کی آمد کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو متعلقہ اداروں کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا، جس سے انخلا، امدادی کارروائیوں اور حفاظتی اقدامات میں تیزی لائی جا سکے گی۔


جدید ٹیکنالوجی سے آفات سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی

ماہرین کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈرون مانیٹرنگ نہ صرف نگرانی کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتی ہے بلکہ خطرناک علاقوں تک فوری رسائی اور درست معلومات کی فراہمی بھی ممکن بناتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے جدید نظام کو مزید وسعت دے کر دیگر قدرتی آفات کی نگرانی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


نتیجہ

پنجاب حکومت کی جانب سے پہلی بار سیلاب کی نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ سسٹم کا آغاز ایک اہم اور جدید اقدام ہے۔ اس نظام کے ذریعے دریاؤں، بیراجوں اور ہیڈورکس کی مسلسل نگرانی ممکن ہوگی، جس سے سیلاب کی بروقت پیشگی اطلاع، بہتر منصوبہ بندی اور فوری حفاظتی اقدامات میں مدد ملے گی۔ حکام کو امید ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں