مسجدِ اقصیٰ سے متعلق 8 عرب اور اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری
اسلام آباد: آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی، اشتعال انگیز کارروائیاں اور مقبوضہ مشرقی القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کے اقدامات پر شدید ردعمل
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی سیکیورٹی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کا مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونا، اسرائیلی پرچم لہرانا اور مقدس مقام پر اشتعال انگیز سرگرمیوں میں حصہ لینا ناقابلِ قبول ہے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
مقبوضہ مشرقی القدس کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی مخالفت
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ مقبوضہ مشرقی القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔
وزرائے خارجہ کے مطابق اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان اور انتہا پسند گروہوں کے اقدامات نفرت، اشتعال انگیزی اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں، جس سے خطے میں امن کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔
دو ریاستی حل پر خدشات کا اظہار
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ اور بیت المقدس سے متعلق حالیہ اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے سنگین رکاوٹ بن رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قراردادوں اور طے شدہ اصولوں کا احترام کیا جائے۔
مسلمانوں کی آزادانہ رسائی کا مطالبہ
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر بیت المقدس کے قدیم شہر اور مسجدِ اقصیٰ تک مسلمانوں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔
مزید کہا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ کے تمام احاطے پر عبادت کا خصوصی حق صرف مسلمانوں کا تسلیم کیا جائے اور اس تاریخی و مذہبی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے۔
اردن کی ہاشمی سرپرستی کا احترام کرنے پر زور
وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کو کوئی قانونی خودمختاری حاصل نہیں۔
انہوں نے اردن کی ہاشمی سرپرستی اور مسجدِ اقصیٰ کے انتظامات سنبھالنے والے محکمہ اوقاف کی قانونی حیثیت کے مکمل احترام پر بھی زور دیا۔
عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے مقدس مقامات کی بے حرمتی، اشتعال انگیزی اور ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
علاقائی امن و استحکام پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق مسجدِ اقصیٰ سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف فلسطین بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مذہبی مقدسات سے متعلق حساس معاملات میں تحمل، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور سفارتی کوششیں ہی کشیدگی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
نتیجہ
آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں مسجدِ اقصیٰ کے تقدس، مقبوضہ مشرقی القدس کی قانونی حیثیت اور مسلمانوں کی آزادانہ عبادت کے حق پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقدس مقامات کے تحفظ، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔