پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، غیر معیاری آئل کی بھاری کھیپ ضبط
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے میں غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے گجرات میں جی ٹی روڈ پر تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی میں تقریباً 15 ہزار کلو چربی سے تیار کردہ غیر معیاری گھی اور آئل قبضے میں لے لیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 60 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اگر یہ کھیپ مارکیٹ تک پہنچ جاتی تو لاکھوں شہری مضرِ صحت گھی اور کوکنگ آئل استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتے تھے۔
جی ٹی روڈ پر خفیہ اطلاع کے بعد کارروائی
ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع موصول ہونے پر کی گئی۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے جی ٹی روڈ پر ایک رجسٹرڈ ایڈیبل آئل سپلائی گاڑی کو روکا اور مکمل تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران گاڑی میں چھپا کر رکھا گیا فیٹ رینڈرنگ آئل برآمد ہوا، جسے بعد ازاں قبضے میں لے لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کو اس انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ بظاہر یہ عام خوردنی آئل کی سپلائی کرتی دکھائی دے، تاہم اندر موجود سامان کی نوعیت مختلف تھی۔
فیلڈ ٹیسٹ میں خطرناک کیمیکل کی تصدیق
کارروائی کے دوران موقع پر ہی آئل کے نمونے حاصل کیے گئے اور فیلڈ ٹیسٹنگ کی گئی۔ ابتدائی ٹیسٹ کے نتائج میں آئل کے اندر خطرناک “میٹانیل ڈائی” کی موجودگی سامنے آئی، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ کیمیکل سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے کیمیکل ملا ہوا آئل مسلسل استعمال کرنے سے جگر، معدہ، گردوں اور دیگر اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ طویل مدت میں سنگین بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
لاکھوں لیٹر مضرِ صحت گھی تیار کرنے کا منصوبہ
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق ضبط کی گئی اس بڑی مقدار سے لاکھوں لیٹر غیر معیاری کوکنگ آئل اور گھی تیار کیا جانا تھا، جسے مختلف شہروں میں فروخت کیا جانا ممکن تھا۔
یہ کارروائی نہ صرف غیر قانونی کاروبار کے خلاف ایک اہم قدم ہے بلکہ شہریوں کو مضرِ صحت خوراک سے بچانے کی کوشش بھی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر عوام کی جانوں سے کھیلتے ہیں اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
فیٹ رینڈرنگ آئل کا اصل استعمال کیا ہے؟
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے بتایا کہ فیٹ رینڈرنگ آئل بنیادی طور پر جانوروں کی آلائشوں اور چربی سے تیار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس آئل کا استعمال صرف بائیو ڈیزل، صابن اور دیگر صنعتی مصنوعات کی تیاری میں کیا جا سکتا ہے۔ اسے کسی بھی صورت میں کھانے کے لیے استعمال کرنا قانوناً جرم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے آئل کو صاف کرکے یا ملاوٹ کے ذریعے خوردنی آئل میں تبدیل کرنا عوام کی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہے۔
مقدمہ درج، تحقیقات کا آغاز
فوڈ اتھارٹی کی شکایت پر تھانہ صدر میں گاڑی کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس غیر قانونی نیٹ ورک میں مزید کون کون سے افراد شامل ہیں اور یہ مضرِ صحت آئل کہاں کہاں سپلائی کیا جا رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
غیر معیاری خوراک کے خلاف سخت پالیسی
پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ مختلف اضلاع میں خوراک تیار کرنے والی فیکٹریوں، گوداموں، ہوٹلوں اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔
ادارے کے مطابق جدید ٹیسٹنگ سسٹم اور انسپکشن ٹیمیں مسلسل مارکیٹ میں موجود اشیائے خورونوش کا معائنہ کر رہی ہیں۔
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری ہمیشہ مستند برانڈز کا خوردنی آئل اور گھی خریدیں اور غیر معمولی کم قیمت پر فروخت ہونے والی مصنوعات سے گریز کریں۔
اگر کسی آئل یا گھی کا رنگ، بو یا ذائقہ غیر معمولی محسوس ہو تو اس کا استعمال فوری طور پر بند کر دیں اور متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
غیر معیاری خوراک کے خلاف عوامی تعاون بھی نہایت ضروری ہے تاکہ ملاوٹ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
نتیجہ
گجرات میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی یہ کارروائی صوبے میں خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ 15 ہزار کلو غیر معیاری آئل اور گھی کی ضبطی سے نہ صرف لاکھوں شہری ممکنہ صحت کے خطرات سے محفوظ ہوئے بلکہ ملاوٹ مافیا کو بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف قانون پوری سختی سے حرکت میں آئے گا۔ حکام کا عزم ہے کہ ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ ہر شہری کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک میسر آ سکے۔