کراچی کے مالی حقوق پر مصطفیٰ کمال کی تنقید، این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی تقسیم پر سوالات
وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ میں وسائل کی تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، بلدیاتی نظام اور کراچی کے مالی حقوق کے حوالے سے اہم دعوے کیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت میں سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود شہر کو اس کے حصے کے مطابق ترقیاتی فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث بنیادی انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور شہری سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
2010 کے بعد کراچی کو براہِ راست مالی حصہ ملنا بند ہو گیا
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سال 2010 تک وفاقی حکومت کراچی سمیت اضلاع کو براہِ راست ٹیکس کی مد میں مالی وسائل فراہم کرتی تھی، لیکن بعد میں صوبوں نے مطالبہ کیا کہ یہ فنڈز این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو دیے جائیں تاکہ وہ آگے اضلاع میں تقسیم کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے بعد کراچی کو وہ حصہ کبھی نہیں ملا جس کا اسے حق حاصل تھا، جس کے باعث شہر کی ترقی کا عمل متاثر ہوا۔
کراچی کو 18 سال میں 2 ہزار ارب روپے ملنے چاہیے تھے
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ماضی کا مالیاتی نظام برقرار رہتا تو کراچی کو گزشتہ 18 برسوں میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے براہِ راست مل سکتے تھے۔
ان کے مطابق اگر یہ وسائل شہر پر خرچ کیے جاتے تو کراچی میں جدید سڑکیں، اسپتال، تعلیمی ادارے، سیوریج سسٹم اور دیگر بنیادی منصوبے مکمل کیے جا سکتے تھے، جس سے شہریوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آتی۔
22 ہزار ارب میں سے کراچی کو صرف 680 ارب روپے ملے
مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی محصولات کی مد میں تقریباً 22 ہزار ارب روپے موصول ہوئے، تاہم اس مجموعی رقم میں سے کراچی کو گزشتہ 18 سال کے دوران صرف 680 ارب روپے دیے گئے۔
ان کے مطابق یہ مجموعی وسائل کا تقریباً 3 فیصد بنتا ہے، جو کراچی جیسے بڑے معاشی مرکز کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والے شہر کو اس کے کردار کے مطابق وسائل نہیں دیے گئے۔
ترقی رکنے کا ذمہ دار صوبائی نظام قرار
ایم کیو ایم رہنما نے الزام عائد کیا کہ کراچی ترقی کی راہ پر گامزن تھا، تاہم صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے باعث شہر کی ترقی کا عمل رک گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کو اس کے وسائل ملتے رہتے تو شہر نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرتا بلکہ قومی معیشت میں بھی مزید مضبوط کردار ادا کرتا۔
اٹھارہویں ترمیم پر بھی سوالات
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم اپنی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں ہو سکی۔
ان کے مطابق صرف کراچی ہی نہیں بلکہ سندھ کے دیگر شہروں کو بھی ان کے جائز مالی اور انتظامی حقوق نہیں ملے، جس کی وجہ سے مقامی حکومتیں مؤثر انداز میں کام کرنے سے محروم ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔
نوکریوں کے کوٹے سے متعلق دعویٰ
پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مخصوص کوٹے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کے باعث اصل مستحق امیدوار اپنے حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
صحت کی سہولیات پر تنقید
وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کے مختلف شہروں میں جدید طبی سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بنیادی طبی سہولیات بھی مطلوبہ معیار کی نہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں دیگر مقامات پر ایئر ایمبولینس جیسی جدید سہولتوں پر بات ہو رہی ہے، وہاں کراچی میں سائیکل ایمبولینس متعارف کرانے کی بات کی جا رہی ہے، جو شہری ضروریات کے مطابق نہیں۔
وسائل کے استعمال پر سنگین الزامات
مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ اگر سندھ کو ملنے والے وسائل شفاف انداز میں عوام پر خرچ کیے جاتے تو پورے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جا سکتا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوامی وسائل کا درست استعمال نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں ترقی کی رفتار سست رہی۔
نتیجہ
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے وسائل کی تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، بلدیاتی اختیارات اور کراچی کے مالی حقوق سے متعلق متعدد اہم دعوے اور الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق کراچی کو اس کی معاشی اہمیت کے باوجود گزشتہ کئی برسوں سے مناسب مالی حصہ نہیں ملا، جس کے باعث شہر کے بنیادی مسائل میں اضافہ ہوا۔ ان بیانات پر متعلقہ حکومتی اداروں یا سندھ حکومت کا مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔