فرائض میں غفلت پر اعلیٰ افسران کے خلاف سخت کارروائی
کوٹلی (29 جولائی 2026) — آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد انتظامی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے فرائض میں غفلت، لاپرواہی اور مبینہ بدانتظامی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے تین سینئر پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنر کوٹلی کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کو انتخابی عمل کے دوران سامنے آنے والی شکایات اور انتظامی کمزوریوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سینئر جنرل انسپکٹر پولیس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
سرکاری اعلامیے کے مطابق سینئر جنرل انسپکٹر پولیس آزاد کشمیر سرتاج عزیز کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکومت نے ان کے خلاف سول سرونٹس قوانین کے تحت باضابطہ محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان کے طرزِ عمل اور انتظامی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
سید عثمان اعظم کو قائم مقام سینئر جنرل انسپکٹر مقرر
حکومت نے فوری طور پر انتظامی خلا کو پر کرنے کے لیے سید عثمان اعظم کو قائم مقام سینئر جنرل انسپکٹر پولیس آزاد کشمیر مقرر کر دیا ہے۔ ان کی تقرری کا مقصد محکمہ پولیس کے انتظامی امور کو مؤثر انداز میں جاری رکھنا اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
ایس پی کوٹلی اور ایس ایچ او بھی معطل
انتظامی کارروائی صرف اعلیٰ سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ ایس پی کوٹلی عدیل احمد کو بھی فرائض میں غفلت اور لاپرواہی پر معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح تھانہ صدر میرپور کے ایس ایچ او کو بھی اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتنے پر معطل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ تحقیقات کی جائیں گی۔
ڈپٹی کمشنر کوٹلی عمران شاہین بھی معطل
صدر آزاد کشمیر نے ڈپٹی کمشنر ضلع کوٹلی عمران شاہین کو بھی مس کنڈکٹ کے الزام میں معطل کر دیا۔ ان کی جگہ محمد عثمان صارم کو نیا ڈپٹی کمشنر کوٹلی تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نئی انتظامیہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ انتخابی معاملات اور ضلعی نظم و نسق کو مزید بہتر انداز میں سنبھالے گی۔
آزاد کشمیر انتخابات کے ابتدائی نتائج
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 9 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب قرار دیے گئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
بلاول بھٹو نے نتائج مسترد کر دیے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ مظفر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران متعدد بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ “میں نے ریاست کی بات کی، اس سے مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کی غیر جانبداری کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
پولنگ اسٹیشنز پر حملوں کا الزام
بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران تقریباً 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیے گئے جبکہ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی بند رہی۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں آزادانہ اور شفاف انتخابات ممکن نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولنگ اسٹیشنز پر حملے ہوں اور عوام کو معلومات تک رسائی نہ ملے تو یہ صورتحال آزاد کشمیر کے بجائے مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کرتی ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا احترام ضروری قرار
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میرپور کے عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، اس لیے عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی شکایات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔
پرامن سیاست پر زور
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری اور پرامن سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کی سیاسی روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کارکنوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوئی تو عوامی ردعمل کو روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔
سیاسی صورتحال مزید اہم مرحلے میں داخل
آزاد کشمیر انتخابات کے بعد انتظامی معطلیوں اور سیاسی بیانات نے خطے کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایک جانب حکومت انتظامی غفلت کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتخابی نتائج، ممکنہ قانونی کارروائیوں اور سیاسی مذاکرات پر تمام سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
نتیجہ
آزاد کشمیر میں انتخابات کے بعد ہونے والی معطلیاں اور سیاسی ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی عمل پر عوامی اعتماد برقرار رکھنا حکومت اور تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شفاف تحقیقات، غیر جانبدارانہ فیصلے اور قانون کی یکساں عملداری ہی سیاسی استحکام اور جمہوری نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے۔