ملک بھر کے بجلی صارفین پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ
اسلام آباد (29 جولائی 2026) — ملک بھر کے بجلی صارفین، بشمول کراچی کے رہائشی، ایک بار پھر ممکنہ مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا کرنے جا رہے ہیں۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) کی جانب سے بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے فی یونٹ 1 روپے 20 پیسے اضافے کی درخواست پیش کی گئی ہے۔ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اگست کے بجلی کے بل صارفین کے لیے مزید بھاری ثابت ہوں گے۔
نیپرا آج درخواست پر سماعت کرے گی
رپورٹس کے مطابق نیپرا آج سی پی پی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر باقاعدہ سماعت کر رہی ہے۔ یہ درخواست جون 2026 کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں دائر کی گئی ہے، جس میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث نرخ بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران متعلقہ حکام پیداواری لاگت، مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی اور صارفین پر ممکنہ مالی اثرات کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کیا ہے؟
فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) بجلی کی پیداواری لاگت میں ماہانہ بنیادوں پر ہونے والے اتار چڑھاؤ کے مطابق صارفین کے بلوں میں ردوبدل کا طریقہ کار ہے۔
اگر کسی مہینے میں ایندھن کی لاگت زیادہ آتی ہے تو اس کا اضافی بوجھ اگلے مہینے صارفین کے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے، جبکہ لاگت کم ہونے کی صورت میں صارفین کو ریلیف بھی دیا جا سکتا ہے۔
بجلی کی پیداوار کے ذرائع کی تفصیلات
سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق جون 2026 کے دوران بجلی مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- ہائیڈرل ذرائع سے 39 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
- مقامی کوئلے سے 10.11 فیصد بجلی حاصل ہوئی۔
- درآمدی کوئلے سے 12.65 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
- درآمدی گیس سے 11.02 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔
- نیوکلیئر پاور پلانٹس سے 13.40 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔
حکام کے مطابق مختلف ذرائع سے پیداوار کی لاگت میں فرق مجموعی پیداواری اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا حساب لگایا جاتا ہے۔
اگست کے بل مزید مہنگے ہونے کا امکان
اگر نیپرا سی پی پی اے کی درخواست منظور کر لیتی ہے تو بجلی کے نرخ میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافہ صرف ایک ماہ کے لیے لاگو کیا جائے گا۔
اس اضافے کی صورت میں اگست کے بجلی کے بلوں میں اضافی رقم شامل ہوگی، جس سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین سب متاثر ہوں گے۔ خاص طور پر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
کے الیکٹرک صارفین بھی متاثر ہو سکتے ہیں
درخواست میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر نیپرا منظوری دیتی ہے تو اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی متوقع ہے۔
کراچی کے لاکھوں صارفین پہلے ہی مہنگائی، بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی اخراجات اور دیگر معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ ان کے ماہانہ بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔
عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان
ملک میں خوراک، ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عوام شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھنے سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوں گے بلکہ صنعتی پیداوار کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
نیپرا کا فیصلہ اہم ہوگا
نیپرا درخواست پر تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی۔ اگر ریگولیٹری اتھارٹی اس اضافے کو مناسب سمجھتی ہے تو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے بعد اضافی چارجز اگست کے بلوں میں شامل کر دیے جائیں گے۔
اگر درخواست مسترد یا جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے تو صارفین پر مالی بوجھ اس کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز
پاکستان کا توانائی کا شعبہ کئی برسوں سے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، گردشی قرضوں، درآمدی ایندھن پر انحصار اور ترسیلی نقصانات جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق قابلِ تجدید توانائی، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں بہتری کے ذریعے طویل المدتی بنیادوں پر صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔
صارفین کے لیے احتیاطی مشورے
ممکنہ اضافے کے پیش نظر ماہرین صارفین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ غیر ضروری بجلی کے استعمال سے گریز کریں، توانائی بچانے والے برقی آلات استعمال کریں اور بجلی کے ضیاع کو کم کریں تاکہ ماہانہ بلوں میں ممکنہ اضافے کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
نتیجہ
سی پی پی اے کی جانب سے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نے بجلی صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب تمام نظریں نیپرا کے فیصلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ اسی کے بعد یہ واضح ہوگا کہ اگست کے بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ شامل کیا جائے گا۔ اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو ملک بھر کے لاکھوں صارفین، بشمول کے الیکٹرک کے صارفین، ایک ماہ کے لیے مہنگی بجلی ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔