آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات
اسلام آباد (02 اگست 2026): آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے ایک نیا اور بڑا مطالبہ سامنے رکھ دیا ہے۔ پارٹی نے صرف چند حلقوں تک محدود رہنے کے بجائے اب ان تمام پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں ووٹنگ کا تناسب 80 فیصد سے زیادہ رہا۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ غیر معمولی ٹرن آؤٹ والے پولنگ اسٹیشنز کی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
80 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ والے پولنگ اسٹیشنز پر ری پول کا مطالبہ
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے دوران واضح مطالبہ کیا کہ ایسے تمام پولنگ اسٹیشنز جہاں ووٹنگ کی شرح 80 فیصد سے زیادہ رہی، وہاں دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر غیر معمولی ٹرن آؤٹ نے انتخابی نتائج پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اس لیے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ری پول ضروری ہے۔
حکومتی وفد کو مطالبہ پیش کر دیا گیا
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے یہ مطالبہ حکومتی مذاکراتی وفد کے سامنے باقاعدہ رکھا۔ حکومتی نمائندوں نے اس مطالبے کو پارٹی قیادت تک پہنچانے اور اس پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے تو آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
پہلے چار حلقوں میں ری الیکشن کا مطالبہ کیا گیا تھا
یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی میرپور ڈویژن کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر چکی ہے۔
پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان حلقوں میں بڑے پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیاں ہوئیں، جن کے شواہد بھی حکومت کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
کن حلقوں پر اعتراضات سامنے آئے؟
پیپلز پارٹی کے مطابق جن حلقوں پر اعتراضات اٹھائے گئے ان میں وہ نشستیں شامل ہیں جہاں پارٹی کے اہم امیدوار میدان میں تھے۔
ان حلقوں میں شامل ہیں:
- چوہدری یاسین
- جاوید بڈھانوی
- پرویز اشرف
- چوہدری اخلاق
پارٹی کا کہنا ہے کہ ان حلقوں کے نتائج پر سنجیدہ تحفظات موجود ہیں، اس لیے آزادانہ تحقیقات اور ری پول ناگزیر ہے۔
دھاندلی کے ثبوت حکومت کو فراہم کرنے کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے مذاکرات کے دوران مبینہ دھاندلی سے متعلق مختلف شواہد بھی حکومتی وفد کو فراہم کیے۔
پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر ان شواہد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو متعدد حلقوں کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔
مظفر آباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر بھی تحفظات
پیپلز پارٹی نے صرف میرپور ڈویژن تک اپنے اعتراضات محدود نہیں رکھے بلکہ مظفر آباد ڈویژن اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر بھی شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے مطابق آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف، آزاد اور غیر جانبدار ہونا چاہیے تاکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد برقرار رہے۔
انتخابی شفافیت پر زور
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی شفاف انتخابات سے وابستہ ہوتی ہے۔
اگر انتخابات کے نتائج پر بڑی سیاسی جماعتیں تحفظات ظاہر کریں تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
آزاد کشمیر انتخابات کے بعد سیاسی ماحول پہلے ہی کافی گرم ہے۔ مختلف جماعتیں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے نئے مطالبے نے سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اگر حکومت ری پول یا تحقیقات کے مطالبات پر پیش رفت کرتی ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
عوام کی نظریں حکومتی فیصلے پر
اب تمام نظریں حکومت اور الیکشن سے متعلق اداروں پر مرکوز ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کے مطالبات پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ شفاف تحقیقات اور غیر جانبدارانہ فیصلے ہی انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب اگر مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دن آزاد کشمیر کی سیاست کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔