پاکستان میں آئی فون 17 سیریز کی قیمتیں اور پی ٹی اے ٹیکسز، صارفین کیلئے بڑی خبر

49

آئی فون 17 سیریز 2026 کی مہنگی ترین اسمارٹ فونز میں شامل

Apple کے مقبول ترین اسمارٹ فون iPhone 17 سے متعلق پاکستانی صارفین کے لیے اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آئی فون کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم اس کی بلند قیمتیں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے بھاری ٹیکسز عام صارفین کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد (25 مئی 2026) — آئی فون 17 سیریز جدید فیچرز، بہتر کیمرہ سسٹم اور طاقتور پرفارمنس کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایپل نے اس نئی سیریز میں کئی اہم اپ گریڈ متعارف کروائے ہیں جن کی وجہ سے اسے 2026 کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اسمارٹ فون سیریز قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی فون 17 سیریز میں کیا نئے فیچرز شامل ہیں؟

رپورٹس کے مطابق آئی فون 17 سیریز میں صارفین کو پہلے سے بہتر اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی گئی ہے۔ اس بار ایپل نے بیس ماڈلز میں بھی زیادہ اسٹوریج آپشنز، ہائی ریزولوشن کیمرے اور بہتر ڈسپلے ٹیکنالوجی شامل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق آئی فون 17 سیریز میں ریفریش ریٹ کو مزید بہتر بنایا گیا ہے جس سے اسکرین کا تجربہ پہلے سے زیادہ ہموار ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری ٹائمنگ، پروسیسر کی رفتار اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

ایپل کی جانب سے اس بار اسٹینڈرڈ اور پرو ماڈلز کے درمیان فرق کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ عام صارفین بھی پریمیم فیچرز سے فائدہ اٹھا سکیں۔

پاکستان میں آئی فون 17 کی قیمت کتنی ہے؟

پاکستان میں آئی فون 17 سیریز کی قیمتیں صارفین کے لیے سب سے بڑی تشویش بنی ہوئی ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آئی فون 17 کے بنیادی ماڈل کی قیمت تقریباً 4 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے جبکہ ہائی اینڈ پرو اور پرو میکس ماڈلز کی قیمت 9 لاکھ روپے تک جا پہنچتی ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت، درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کے باعث پاکستان میں آئی فون دنیا کے مہنگے ترین اسمارٹ فونز میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے صارفین بیرونِ ملک سے فون منگوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پی ٹی اے ٹیکسز نے صارفین کی مشکلات بڑھا دیں

پاکستان میں آئی فون خریدنے کے بعد صارفین کو سب سے بڑا مسئلہ پی ٹی اے رجسٹریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ Pakistan Telecommunication Authority کی جانب سے ہر درآمد شدہ موبائل فون پر رجسٹریشن ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جو فون کے ماڈل اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔

آئی فون 17 سیریز پر پی ٹی اے ٹیکسز لاکھوں روپے تک پہنچ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے فون کی مجموعی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر کوئی صارف پاسپورٹ پر فون رجسٹر کرواتا ہے تو ٹیکس نسبتاً کم ہوتا ہے جبکہ شناختی کارڈ پر رجسٹریشن کی صورت میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

صارفین کے لیے آئی فون رکھنا مشکل کیوں؟

پاکستان میں مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور اضافی ٹیکسز کے باعث آئی فون خریدنا اب ایک لگژری سمجھا جاتا ہے۔ متوسط طبقے کے بیشتر صارفین کے لیے اتنی بڑی رقم خرچ کرنا آسان نہیں رہا۔

اس کے باوجود نوجوانوں اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد میں آئی فون کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایپل کی برانڈ ویلیو، کیمرہ کوالٹی، سیکیورٹی فیچرز اور پرفارمنس اسے دیگر اسمارٹ فونز سے منفرد بناتی ہے۔

آئی فون 17 سیریز کیوں خاص ہے؟

ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی فون 17 سیریز میں مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق نئے فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں جو صارفین کو زیادہ اسمارٹ اور ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ فوٹوگرافی، ویڈیو ریکارڈنگ اور گیمنگ کے شوقین افراد کے لیے بھی یہ سیریز انتہائی طاقتور تصور کی جا رہی ہے۔ ایپل کی نئی ڈیوائسز میں زیادہ بہتر کیمرہ سینسرز اور جدید ویڈیو فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستانی مارکیٹ میں آئی فون کی بڑھتی مقبولیت

اگرچہ قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن پاکستان میں آئی فون کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ مختلف موبائل مارکیٹس میں آئی فون 17 سیریز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ کئی صارفین قسطوں پر بھی یہ فون خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں درآمدی ڈیوٹیز اور پی ٹی اے ٹیکسز میں کمی کی جاتی ہے تو آئی فون مزید پاکستانی صارفین کی پہنچ میں آ سکتا ہے، بصورت دیگر یہ فون صرف محدود طبقے تک ہی محدود رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں