وفاقی وزیر توانائی کا اہم اعتراف
اسلام آباد میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کے حوالے سے ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ فکسڈ چارجز پہلے کے مقابلے میں دوگنا ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز مجموعی بل کے تقریباً 3 سے 4 فیصد تک ہوتے تھے، تاہم اب یہ بڑھ کر تقریباً 10 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’خبر‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے بجلی کے نرخوں، فکسڈ کاسٹ اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق مختلف سوالات کے جواب دیے۔ ان کے بیان نے بجلی صارفین کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
فکسڈ کاسٹ کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟
فکسڈ کاسٹ یا فکسڈ چارجز وہ رقم ہوتی ہے جو بجلی استعمال ہونے یا نہ ہونے کے باوجود صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد بجلی کے نظام، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور دیگر بنیادی اخراجات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق بجلی کے نظام کی فکس کاسٹ پورے سال میں تقریباً ایک جیسی رہتی ہے۔ تاہم جب صارف کم بجلی استعمال کرتا ہے تو اس کے بل میں فکسڈ چارجز کا تناسب زیادہ محسوس ہوتا ہے، جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے کی صورت میں یہی چارجز نسبتاً کم دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں فکسڈ چارجز بل کے صرف 3 سے 4 فیصد تک محدود تھے لیکن اب یہ شرح تقریباً 10 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ فکسڈ کاسٹ کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
کم بجلی استعمال کرنے والے زیادہ متاثر کیوں؟
اویس لغاری نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ جن مہینوں میں بجلی کی کھپت کم ہوگی، ان مہینوں میں فکسڈ کاسٹ زیادہ محسوس ہوگی۔ یہی نکتہ عوامی حلقوں اور ماہرین کی تنقید کا مرکز بن گیا ہے۔
کم آمدنی والے خاندان، چھوٹے گھریلو صارفین اور وہ لوگ جو بجلی بچانے کی کوشش کرتے ہیں، اس نئی پالیسی سے نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ پہلے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو کم بل ادا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب فکسڈ چارجز کے اضافے کے باعث ان کے بلوں میں ایک مستقل بوجھ شامل ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے بجلی بچانے کی حوصلہ افزائی کم ہو سکتی ہے کیونکہ صارف کم یونٹ استعمال کرنے کے باوجود فکسڈ چارجز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
حکومت کا مؤقف: فی یونٹ نرخ کم ہوئے
وفاقی وزیر توانائی نے دعویٰ کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ نرخوں میں کمی کی گئی ہے اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کے باعث بجلی مزید 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک سستی ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق اگر بجلی کے بل کا تجزیہ صرف ویریبل یا فی یونٹ چارجز کی بنیاد پر کیا جائے تو مجموعی طور پر صارفین کو ریلیف ملا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف فی یونٹ نرخوں میں کمی کو نمایاں کرنا کافی نہیں، کیونکہ صارفین کو اصل ادائیگی اپنے مجموعی بل کی بنیاد پر کرنی پڑتی ہے۔
سردیوں اور گرمیوں میں فرق
اویس لغاری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سردیوں میں بجلی کی کھپت کم ہونے کے باعث فکسڈ چارجز نسبتاً زیادہ محسوس ہوتے ہیں، جبکہ گرمیوں میں جب صارفین زیادہ یونٹ استعمال کرتے ہیں تو یہی فکسڈ چارجز مجموعی بل میں کم تناسب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
تاہم عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ فکسڈ چارجز کی موجودگی خود ایک اضافی مالی بوجھ ہے، جس کا سامنا صارفین کو ہر حال میں کرنا پڑتا ہے، چاہے ان کی بجلی کی کھپت کم ہی کیوں نہ ہو۔
بجلی کی کھپت میں اضافہ
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 9 سے 10 ماہ کے دوران بجلی کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، جس کی تفصیلات نیپرا کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔
حکومت اس اضافے کو بجلی کے نرخوں میں کمی اور بہتر معاشی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بجلی کے استعمال میں اضافہ موسمی عوامل اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
عوامی ردعمل اور خدشات
بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے کے اعتراف کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بھی اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بجلی کے نظام کی لاگت پوری کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے جو کم آمدنی والے طبقے پر اضافی بوجھ نہ ڈالے۔
نتیجہ
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اعتراف نے بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کے مسئلے کو دوبارہ عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اگرچہ حکومت فی یونٹ نرخوں میں کمی کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، لیکن فکسڈ چارجز میں اضافے نے خاص طور پر کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گی جب نرخوں کا نظام شفاف، منصفانہ اور تمام صارفین کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول ہو۔ موجودہ صورتحال میں فکسڈ چارجز کا بڑھتا ہوا بوجھ مستقبل میں بھی عوامی اور سیاسی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔