دیا مرزا کا جذباتی انکشاف، والدین کی طلاق اور والد کے اصولوں نے زندگی بدل دی

14

ممبئی (06 جون 2026): بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے اپنی نجی زندگی سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ والدین کی علیحدگی اور والد کے مضبوط اصولوں نے ان کی شخصیت، سوچ اور زندگی کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا۔

44 سالہ اداکارہ نے یہ بات اداکارہ سوہا علی خان کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران کہی، جہاں انہوں نے اپنے بچپن، خاندانی زندگی اور کیریئر کے اہم مراحل پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

والد اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے

دیا مرزا نے بتایا کہ ان کے والد انتہائی اصول پسند اور دیانت دار انسان تھے، جو مالی مشکلات کے باوجود اپنے نظریات پر قائم رہتے تھے۔

ان کے مطابق والد غیر اخلاقی یا غلط کام کرنے سے ہمیشہ انکار کرتے تھے، چاہے اس کی وجہ سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

اداکارہ نے کہا کہ ان کے والد کی یہی خصوصیات ان کی زندگی کے لیے ایک اہم سبق بن گئیں۔

والدین کی علیحدگی کی ایک اہم وجہ

دیا مرزا نے انکشاف کیا کہ والدین کے درمیان اختلافات کی ایک وجہ والد کا اپنے اصولوں پر سختی سے قائم رہنا بھی تھا۔

انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے ایک ایسی فیکٹری میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا جو صنعتی فضلہ قریبی دریا میں پھینکتی تھی اور ماحول کو نقصان پہنچا رہی تھی۔

اس فیصلے نے گھر میں شدید اختلافات کو جنم دیا۔

مالی مشکلات اور والد کا مؤقف

اداکارہ کے مطابق اس وقت خاندان مالی دباؤ کا شکار تھا اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا آسان نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے عملی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم اور دیگر گھریلو اخراجات کی فکر کا اظہار کیا، تاہم ان کے والد نے اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انسان کے پاس ہمیشہ درست فیصلہ کرنے کا اختیار موجود ہوتا ہے۔

دیا مرزا کے مطابق یہ واقعہ ان کی زندگی کے اہم ترین اسباق میں سے ایک بن گیا۔

دیانت داری اور سماجی ذمے داری کا سبق

اداکارہ نے کہا کہ والد کے اس فیصلے نے انہیں دیانت داری، سماجی ذمے داری اور مشکل حالات میں بھی درست راستہ اختیار کرنے کی اہمیت سکھائی۔

ان کے مطابق انسان کی اصل کامیابی صرف مالی فائدے میں نہیں بلکہ اپنی اقدار اور اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔

فطرت سے محبت کیسے پیدا ہوئی؟

دیا مرزا نے اپنی گفتگو میں بچپن کی یادیں بھی تازہ کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے اپنے منہ بولے والد کے ساتھ قدرتی ماحول میں گزارا، جہاں وہ کشتی رانی، ٹریکنگ اور فطرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔

آم، امرود اور چیکو کے درختوں سے بھرپور ماحول میں پرورش پانے کے باعث ان کے دل میں کم عمری ہی سے ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت پیدا ہوئی۔

کیریئر کے عروج پر بڑا فیصلہ

پوڈ کاسٹ کے دوران دیا مرزا نے اپنے فلمی کیریئر کے ایک اہم مرحلے پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ 2005 میں، جب ان کا کیریئر کامیابی کی بلندیوں پر تھا، انہوں نے دو سال کے لیے کام سے وقفہ لینے کا فیصلہ کیا۔

ان کے مطابق اس وقت وہ پیشہ ورانہ کامیابی کے باوجود خود کو مطمئن محسوس نہیں کر رہی تھیں۔

“پیسہ خوشی نہیں دے رہا تھا”

دیا مرزا نے بتایا کہ 24 برس کی عمر میں انہیں احساس ہوا کہ مالی کامیابی اور شہرت کے باوجود وہ حقیقی خوشی محسوس نہیں کر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اپنا گھر، مالی خودمختاری اور ایک مستحکم زندگی تھی، لیکن اس کے باوجود اندرونی سکون کی کمی محسوس ہوتی تھی۔

اسی احساس نے انہیں اپنی زندگی اور ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔

اپنی اصل ذات کی طرف واپسی

اداکارہ کے مطابق اس مرحلے پر انہوں نے اپنی زندگی کو نئے انداز میں دیکھنا شروع کیا اور ان کہانیوں اور منصوبوں کا انتخاب کیا جو ان کی ذاتی اقدار اور نظریات سے مطابقت رکھتے تھے۔

انہوں نے اس تجربے کو “اپنے گھر واپس آنے” جیسا احساس قرار دیا۔

ماحولیات کے لیے سرگرم کردار

واضح رہے کہ دیا مرزا طویل عرصے سے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔

وہ مختلف سماجی اور عالمی مہمات کا حصہ رہ چکی ہیں اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

نتیجہ

بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے اپنے حالیہ پوڈ کاسٹ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ والدین کی علیحدگی، والد کے اصول پسند رویے اور بچپن کے تجربات نے ان کی شخصیت اور زندگی کے فیصلوں کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دیانت داری، ماحولیات سے محبت اور اپنی اقدار پر قائم رہنا انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملا، جبکہ پیشہ ورانہ کامیابی کے باوجود اندرونی سکون کی تلاش نے انہیں اپنی زندگی کا نیا راستہ اختیار کرنے میں مدد دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں