30

کراچی: ویڈ فروخت کرنے کا جرم ثابت، دو ملزمان کو عمر قید کی سزا

انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت کا اہم فیصلہ، دو ملزمان کو مجموعی طور پر 23 اور 25 سال قید

کراچی: انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت نے ویڈ (منشیات) فروخت کرنے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی، جبکہ دو شریک ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت کے جج کامران عطا سومرو نے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم نعمان خالق کو 25 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اسی مقدمے میں ملزم شاہد علی کو 23 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دونوں ملزمان کے خلاف استغاثہ جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جس کی بنیاد پر انہیں قانون کے مطابق سزا سنائی گئی۔

جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید قید

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر دونوں مجرمان مقررہ جرمانہ ادا نہ کر سکے تو انہیں مزید چھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اضافی سزا قانونی تقاضوں کے مطابق نافذ ہوگی۔

دو شریک ملزمان بری

خصوصی عدالت نے مقدمے میں نامزد شریک ملزمان آصف اور راحت کے خلاف شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں شک کا فائدہ دیا اور مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمات میں کسی شخص کو صرف اس صورت سزا دی جا سکتی ہے جب جرم بلا شبہ ثابت ہو، جبکہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

برآمد شدہ رقم اور موٹر سائیکل سے متعلق حکم

عدالت نے مقدمے میں برآمد ہونے والی رقم کو سرکاری تحویل میں ضبط کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مقدمے میں تحویل میں لی گئی موٹر سائیکل کی ملکیت کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد اسے قانونی مالک کے حوالے کر دیا جائے۔

اے این ایف نے 2023 میں کارروائی کی تھی

استغاثہ کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے سال 2023 میں کراچی کے علاقے قائد آباد میں خصوصی کارروائی کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

حکام کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے منشیات برآمد کی گئی، جس کے بعد ان کے خلاف انسدادِ منشیات کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ملزمان پر سنگین الزامات

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر بدنام زمانہ منشیات فروش علی بلوچ کے سرگرم کارندے تھے اور منشیات کی خرید و فروخت کے منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

پراسیکیوشن نے دوران سماعت مختلف شواہد اور گواہان کے بیانات عدالت میں پیش کیے، جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

عدالت کا قانون پر عملدرآمد پر زور

عدالتی فیصلے کو منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی مشترکہ کوششوں سے منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔

منشیات کے خلاف اقدامات جاری

پاکستان میں انسدادِ منشیات کے ادارے مختلف شہروں میں منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد منشیات کے پھیلاؤ کو روکنا اور معاشرے کو اس سنگین مسئلے سے محفوظ بنانا ہے۔

 اختتامیہ

کراچی کی انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت نے ویڈ فروخت کرنے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر نعمان خالق اور شاہد علی کو بالترتیب 25 اور 23 سال قید سمیت جرمانے کی سزا سنا دی، جبکہ دو شریک ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کو منشیات کے خلاف قانونی کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں